سندھ میں پسندیدہ نمبر پلیٹ کی فیس 20 لاکھ روپے تک مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260219-08-3
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے پسندیدہ موٹر رجسٹریشن نمبر فیس 20 لاکھ روپے تک مقرر کردی۔ صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق گاڑی مالکان جو پسندیدہ موٹر رجسٹریشن نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ منظور شدہ رقم دے کر حاصل کرسکتے ہیں جس کی حد 20 لاکھ روپے تک ہے۔ جو رقم وصول کرنا طے پایا ہے اس کے مطابق 786 اور 110 رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے والے کو 20 لاکھ ادا کرنے ہوں گے۔ تین ہندسوں والے 111 سے 999 نو رجسٹریشن نمبروں کی پلیٹس فیس 10 لاکھ روپیفی نمبر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح تین عدسوں والے 100 سے 900 کی نو نمبر پلیٹس حاصل کرنے والوں سے پانچ لاکھ روپے فیس وصول کی جائے گی 001 سے 009 کے نو نمبر پلیٹس حاصل کرنے والوں کو بھی پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔ان کے علاوہ باقی چوائس کے نمبروں کو حاصل کرنے کے لیے تین لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاکھ روپے
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔