معاشرے تلوار کی نوک پر نہیں، الفاظ، دلیل اور مکالمے کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں: ملک احمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی کی تاریخی عمارت میں ''سپیکر اور عوام'' کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیشن میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے طلباء، اساتذہ اور سوشل سکیورٹی ورکرز سے مکالمہ کیا اور ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ سپیکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرے تلوار کی نوک پر نہیں بلکہ الفاظ، دلیل اور مکالمے کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملے پر رائے قائم کرنے سے قبل تحقیق ناگزیر ہے اور موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی بدولت تحقیق کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ بیانیوں کے بجائے مستند معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ نظامِ عدل پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر نے اسے ریاست کا بنیادی ستون قرار دیا اور کہا کہ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں، جس کے باعث سائلین کو انصاف کے حصول میں تاخیر کا سامنا ہے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں پبلک پٹیشنز کے نئے نظام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عوام باقاعدہ دستخطوں کے ساتھ اپنی درخواستیں اسمبلی کو ارسال کر سکیں گے، جنہیں قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے متعلقہ محکموں تک پہنچایا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ طلباء یونین کے حوالے سے سپیکر نے کہا کہ وہ سٹوڈنٹ یونین کی بحالی کے حامی ہیں کیونکہ تعلیمی اداروں میں مکالمے، برداشت اور قیادت کی تربیت کے لیے یہ ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے قانون سازی کی ہے جس کے تحت ہر یونیورسٹی اپنے دس فیصد طلباء کو سکالرشپ فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔