سربجیت کور کو واپس انڈیا بھیجا جائے، پنجاب کے وزیر رمیش سنگھ اروڑا کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے بھارتی پنجاب سے پاکستان آکر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور سے متعلق کا ہے کہ سربجیت کور پر بھارت میں مقدمات ہیں، انہیں پاکستان میں نہیں رکھنا چاہیے، انہیں واپس بھیجنا چاہیے۔ وزارت داخلہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اگر ہم انہیں واپس نہیں بھیجیں گے تو سکھ کاز کو نقصان پہنچے گا۔
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ سربجیت کور یاترا ویزے پر پاکستان آئیں۔ یہاں انہوں نے نکاح کے اوپر نکاح کیا۔ جس نے بھی نکاح پڑھوایا، اس نے غلط کام کیا۔ قانونی طور پر دیکھنا ہوگا کہ کیا اس کا نکاح درست تھا یا نہیں۔ وہ ایک شادی شدہ خاتون ہے، اس کا مذہب چاہے جو بھی ہو، اس نے نکاح کے اوپر نکاح کیا ہے۔
میں نے آئی پنجاب اور پنجاب حکومت سے کہا کہ سربجیت کور کو واپس بھارت جانا چاہیے، لیکن وزارت داخلہ نے انہیں یہاں پر روکا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہم انہیں واپس نہیں بھیجتے تو سکھ کاز میں دراڑ پڑے گی، بھارت میں موجود سکھوں میں ڈر اور خوف پیدا ہوگا۔ سربجیت کی انٹری غیر قانونی ہے۔ یہ واپس جائے، اگر دوبارہ پاکستان آنا چاہے تو دوسرا ویزا اپلائی کرے، مگر اب اسے یہاں نہیں رکھنا چاہیے۔
ہمارے پاس سربجیت کور کے خلاف شکایات بھارت کی طرف سے موصول ہوئی ہیں کہ وہ وہاں اشتہاری ہیں اور ان پر مقدمات ہیں۔ سربجیت کے شوہر نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی بیوی کے کردار کے حوالے سے بتایا۔ پاکستان سکھ پروبندھک کمیٹی بھی یہ مانتی ہے کہ سربجیت کور کو پاکستانی حکومت واپس بھارت روانہ کرے۔
یاترا پالیسی میں ممکنہ تبدیلیایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ دہلی منجمنٹ پربندھک کمیٹی سے کہا ہے کہ جو بھی یاتری پاکستان میں یاترا کے لیے آ رہے ہیں وہ صرف اسی مقصد کے لیے آئیں، یہاں آکر کوئی بزنس یا شادیاں نہ کریں۔ اکیلی خاتون کو یاترا کے لیے نہ بھیجا جائے، ساتھ اس کا بھائی یا کوئی فیملی ممبر لازمی ہو۔ عمر کی حد کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اقلیتی کارڈ کے ذریعے مالی معاونتوی نیوز کو انٹرویو میں رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ اقلیتی کارڈ پنجاب حکومت کا اچھا اقدام ہے۔ اس وقت ایک لاکھ خاندانوں کو ہر 3 ماہ بعد ساڑھے 10 ہزار روپے کی رقم دی جا رہی ہے۔ کارڈ کے آغاز پر معلوم ہوا کہ پاکستان میں 14 مختلف اقلیتیں پنجاب میں رہ رہی ہیں۔ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں، خصوصاً پنجاب میں چیف منسٹر مریم نواز اقلیتوں کے لیے بہت کچھ کر رہی ہیں۔
مندروں اور چرچز کی بحالیایک سوال کے جواب میں رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ 3 مندروں پر کام ہو رہا ہے، ان میں کرشن مندر روالپنڈی، شیو مندر بہاولپور اور ایک چھوٹا مندر ناروال میں ہے۔ سیالکوٹ میں شوالہ کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے، جس کی تاریخ ایک ہزار سال پرانی ہے۔ ملتان اور حسن ابدال میں بھی مندروں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں چرچز کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے، اور اقلیتوں کے لیے پورے پنجاب میں قبرستان اور جنازہ گاہیں بنائی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقلیتی کارڈ پنجاب دہلی منجمنٹ پربندھک کمیٹی رمیش سنگھ اروڑا سربجیت کور مریم نواز مندر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقلیتی کارڈ رمیش سنگھ اروڑا سربجیت کور مریم نواز کہ سربجیت کور پاکستان میں کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار