کیا بلوچستان یوتھ پالیسی تعطل کا شکار ہے یا عملدرآمد جاری ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو مثبت سمت دینے اور انہیں معاشی و سماجی ترقی کا حصہ بنانے کے لیے بلوچستان یوتھ پالیسی 2024 پر عملدرآمد جاری رکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس پالیسی کے عملی نتائج پر سوالات اٹھا رہی ہے، جس سے یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا یہ پالیسی تعطل کا شکار ہے یا سست روی کا؟
بلوچستان یوتھ پالیسی کیا ہے؟یہ پالیسی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ پالیسی کے بنیادی نکات میں تعلیم اور ہنر کی ترقی، روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل اسکلز، یوتھ سینٹرز کا قیام، ذہنی صحت اور نوجوانوں کی قیادت کو فروغ دینا شامل ہیں۔
کوئٹہ میں جدید اسکل سینٹر کا قیامحکومتی حکام کے مطابق اس پالیسی کے تحت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جدید اسکل سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں نوجوانوں کو آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انٹرپرینیورشپ جیسے جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان حکومت کی پہلی یوتھ پالیسی، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا عزم
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی شاہد رند نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو منفی پروپیگنڈے سے دور رکھنا اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کے تحت کھیلوں کے مختلف ایونٹس، جن میں نیشنل گیمز اور فٹبال مقابلے شامل ہیں، کا انعقاد بھی کیا گیا ہے۔
نوجوانوں کو تکنیکی مہارتیں سکھانے کا عمل جاریدوسری جانب سیکریٹری اسپورٹس درا بلوچ کا کہنا ہے کہ یوتھ سوشل اکنامک پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو تکنیکی مہارتیں سکھانے کا عمل جاری ہے اور نجی اداروں کے تعاون سے مزید منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پالیسیوں کے مکمل نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے اسے ناکامی یا تعطل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
تاہم نوجوانوں کا موقف اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی کے اعلان کو 2 سال گزرنے کے باوجود اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ صوبے کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب 60 فیصد سے زائد ہے، مگر اسکل سینٹرز اور تربیتی پروگرام محدود ہیں۔ نوجوانوں نے بیرون ملک اسکالرشپس، روزگار کے مواقع اور یوتھ سینٹرز کے قیام کے وعدوں کی عدم تکمیل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں بے ضابطگیاں، وزیر اعلیٰ کا نوٹس
بلوچستان یوتھ پالیسی ایک اہم اور ضروری اقدام ہے، کیونکہ صوبے کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ حکومت کی جانب سے اسکل سینٹرز اور اسپورٹس سرگرمیوں کا آغاز مثبت پیش رفت ہے، مگر وسیع پیمانے پر اثرات کے لیے ان اقدامات کا دائرہ کار بڑھانا ضروری ہے۔ پالیسی کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ عملی نتائج، روزگار کے حقیقی مواقع اور نوجوانوں کی شمولیت پر ہے۔
اگر حکومت وسائل، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ اس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بناتی ہے تو یہ بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر، سست روی اور محدود اقدامات اس پالیسی کو مؤثر نتائج دینے سے روک سکتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں مایوسی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان یوتھ پالیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو اس پالیسی پالیسی کے کے مواقع کے لیے
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ