کراچی: رہائشی عمارت میں گیس لیکیج دھماکے میں 13 افراد جاں بحق، کئی افراد تاحال ملبے تلے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر کے گنجان آباد علاقے سولجر بازار کی گل رعنا کالونی میں گیس لیکیج دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی جب کہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گل رعنا کالونی کی گلی نمبر 5 کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت میں اچانک زور دار دھماکے کے بعد چھت زمیں بوس ہوگئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ جاں بحق افراد میں کمسن بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
دھماکے کی شدت اس قدر تھی کہ آس پاس کی عمارتیں بھی لرز اٹھیں اور مکین گھبراہٹ کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک زور دار دھماکے کے بعد دھول اور ملبے کے بادل فضا میں پھیل گئے، جس سے چند لمحوں کے لیے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے حرکت میں آگئے۔ ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا کے رضاکاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو نکالا اور سول اسپتال منتقل کیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبہ ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک سے دو افراد اب بھی دبے ہو سکتے ہیں۔
اس دوران 10 سالہ سجاد سمیت متعدد لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔ جاں بحق افراد میں طلحہ اور 60 سالہ ریاض کی شناخت بھی ہو چکی ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوع کے قریب غیر ضروری ہجوم نہ کریں تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ ہو۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا گھریلو گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا، تاہم حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔