برطانیہ میں رمضان کی آمد پر سپر مارکیٹس کی جانب سے آٹا اور چاول سستے، مسلم کمیونٹی کو بڑا ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ میں رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سپر مارکیٹس نے مسلم کمیونٹی کو ریلیف دینے کے لیے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی ہے۔
اس اقدام کا مقصد رمضان کے دوران بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق رمضان کی آمد پر 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً آدھی کردی گئی ہے، جس کے بعد یہ صارفین کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سستی دستیاب ہے۔ اسی طرح ساڑھے 12 پاؤنڈ مالیت والا آٹے کا تھیلا اب صرف 6 پاؤنڈ 25 پینس میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چاول کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جہاں 10 کلو چاول کے تھیلے پر 5 پاؤنڈ تک کی بچت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 5 کلو چاول کے تھیلے پر بھی 3 پاؤنڈ تک رعایت فراہم کی گئی ہے۔
یہ رعایتی اقدامات رمضان المبارک کے دوران مسلم خاندانوں کو معاشی سہولت فراہم کرنے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں، جسے کمیونٹی کی جانب سے مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔