وزن کم کرنے اور پٹھے مضبوط کرنے کے لیے پروٹین کا استعمال کب کرنا چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے صرف خوراک کی مقدار پر توجہ دینا کافی نہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق پروٹین کھانے کا صحیح وقت بھی وزن کم کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ صحیح وقت پر پروٹین کھانے سے بھوک قابو میں رہتی ہے اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔
پروٹین اور وزن کم کرناماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے درمیان پروٹین سے بھرپور سنیکس کھانے سے بھوک کم رہتی ہے اور پیٹ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس سے مجموعی کیلوریز کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ اس طرح وزن کم کرنے کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ بادام، انڈے اور دہی جیسے سنیکس اس کے بہترین مثالیں ہیں۔
پٹھوں کی مضبوطیورزش کے بعد 30 منٹ سے 2 گھنٹے کے اندر پروٹین لینا پٹھوں کی نمو کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ سونے سے پہلے پروٹین سے بھرپور سنیک لینے سے رات بھر پٹھوں کی بحالی میں مدد ملتی ہے اور جسم مضبوط رہتا ہے۔
مجموعی صحت کے لیےپروٹین کا دن بھر متوازن استعمال، ہر کھانے اور سنیک میں شامل کرنے سے پٹھوں کی پروٹین سنتھیسس بڑھتی ہے اور توانائی کی سطح مستحکم رہتی ہے۔ خاص طور پر ناشتہ میں پروٹین شامل کرنے سے بھوک کنٹرول میں رہتی ہے اور دن بھر توانائی برقرار رہتی ہے۔
ماہرین کی ہدایاتپروٹین کے فوائد حاصل کرنے کے لیے اعلی معیار کے ذرائع جیسے گوشت، مچھلی، انڈے، ڈیری، دالیں اور بیج استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس سے جسم کو تمام ضروری امینو ایسڈ اور غذائی اجزاء ملتے ہیں۔
اگر خوراک کے ذریعے مطلوبہ پروٹین پوری نہ ہو رہی ہو تو وے، کیسین یا پلانٹ بیسڈ پروٹین پاؤڈر استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم یہ ہمیشہ ماہر غذائیت کی رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ورزش کرنے والے افراد یا پٹھوں کی مضبوطی کے خواہشمند افراد کو اپنی پروٹین کی مقدار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروٹین پروٹین کا استعمال روزے میں وزن کم کرنا وزن وزن کم کرنے کا طریقہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروٹین پروٹین کا استعمال وزن کم کرنے کا طریقہ رہتی ہے کرنے کے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔