تیاری مکمل، رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ ہوسکتا ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کو بریفنگ دی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ دنوں میں فضائی اور بحری اثاثوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور فوج کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور انہوں نے نجی طور پر فوجی کارروائی کے حق اور مخالفت دونوں پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ وہ اپنے مشیروں اور اتحادیوں سے بھی مشاورت کر رہے ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ صدر اس معاملے پر کافی وقت صرف کر رہے ہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ ویک اینڈ تک کوئی فیصلہ کریں گے یا نہیں۔
بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اعلیٰ قومی سلامتی حکام کا اجلاس ہوا جس میں ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی روز صدر کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے ایران کے ساتھ ہونے والی بالواسطہ بات چیت کے بارے میں بریفنگ دی۔
یہ بات چیت جنیوا میں ہوئی جہاں ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں نے ساڑھے تین گھنٹے تک نوٹس کے تبادلے کے ذریعے گفتگو کی، تاہم کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے کہا کہ کچھ رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے جبکہ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ابھی بہت سی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران آئندہ چند ہفتوں میں اپنے مؤقف کی مزید تفصیلات پیش کرے گا، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح ڈیڈ لائن دینے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری صدر کی پہلی ترجیح ہے، لیکن فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کے حق میں مختلف دلائل موجود ہیں اور صدر قومی سلامتی ٹیم کے مشوروں کو اہمیت دے رہے ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 28 فروری کو اسرائیل کا دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کر کے ایران سے متعلق بات چیت پر تبادلہ خیال کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ بھی اس ہفتے خطے میں پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں تعینات امریکی فضائیہ کے طیاروں، بشمول ری فیولنگ ٹینکرز اور لڑاکا جہازوں، کو بھی مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران اہم مقامات کو کنکریٹ اور مٹی کی موٹی تہوں سے محفوظ بنا رہا ہے۔
عالمی حالات بھی ممکنہ فیصلے کے وقت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمائی اولمپکس اتوار کو اختتام پذیر ہو رہے ہیں جبکہ رمضان المبارک کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
بعض اتحادی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقدس مہینے میں حملہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ اگلے ہفتے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب بھی کرنے والے ہیں، جس میں ملکی معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے، لیکن فوجی تیاریوں اور بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ فی الحال حتمی فیصلہ صدر کے ہاتھ میں ہے اور آئندہ چند دن صورتحال کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم