بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں فضائی پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
اس فیصلے کے بعد پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے باقاعدہ نیا نوٹم جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والی تمام پروازیں 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گی۔
قبل ازیں یہ پابندی 18 فروری تک نافذ العمل تھی، تاہم تازہ حکومتی ہدایات کے بعد اس میں توسیع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ملکی سلامتی اور علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند چلی آ رہی ہے، جس کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس کے لیے متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔
ماہرینِ ہوا بازی کے مطابق اس پابندی کے نتیجے میں بھارتی ایئرلائنز کے ایندھن کے اخراجات اور پرواز کے دورانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا مالی اثر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ فضائی حدود کی بندش ایک خودمختار ریاست کا حق ہے اور اسے سیکیورٹی اور سفارتی حالات کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔
علاقائی سطح پر اس فیصلے کو دونوں ممالک کے تعلقات کی موجودہ نوعیت کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فضائی حدود کی بندش نہ صرف سفری نظام بلکہ تجارتی اور سفارتی روابط پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم فی الوقت کسی قسم کی نرمی یا مذاکراتی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی حدود کی بندش کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک