Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:28:37 GMT

راجپال یادیو ضمانت کے بعد فلموں میں کام مانگنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

راجپال یادیو ضمانت کے بعد فلموں میں کام مانگنے لگے

بھارتی مزاحیہ فلمی اداکار راجپال یادیو نے دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے 30 دن کی عارضی ضمانت ملنے کے بعد فلم سازوں سے کام کے مواقع کی درخواست کر دی۔

اداکار نے درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجھے مضبوط کردار دیے جائیں تو میں کسی بھی فیس پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

راجپال یادیو نے رہا ہونے کے بعد بھارتی ٹی وی سے گفتگو میں اپنے شائقین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مختلف نسلوں کی عوامی محبت نے میرے کیریئر کو برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے فلمی صنعت کے ساتھیوں سے درخواست کی کہ مجھے دوبارہ کام دینے پر غور کریں، میں پیشکش کے مطابق باہمی شرائط پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

واضح رہے کہ عدالت نے اداکار کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پرانے چیک باؤنس کیس میں عارضی ریلیف دیا ہے۔

یہ کیس 2010ء میں اداکار کی فلم اتا پتہ لاپتہ کی پروڈکشن کے لیے لیے گئے 5 کروڑ روپے کے قرض سے متعلق ہے، یہ فلم تجارتی لحاظ سے ناکام رہی تھی۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق اداکار قرض کی مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ کر سکے اور قرض دہندہ کو جاری کیے گئے چیکس ریجیکٹ ہو گئے، بعد میں ادائیگی کے لیے کوششیں کی گئیں مگر سود کے ساتھ بقایا جات رہ گئے۔

راجپال یادیو کو 2018ء میں کرکردوما ٹرائل کورٹ نے 6 ماہ کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور کئی مواقع پر ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد ریلیف حاصل کیا۔

رواں ماہ کے شروع میں عدالت نے پچھلے ریلیف کو بڑھانے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں پیش ہو کر گرفتاری دینے کا حکم دیا تھا، جس پر انہو نے اگلے دن گرفتاری دے دی تھی۔

اب عارضی ضمانت کے بعد عدالت نے راجپال یادیو کو عارضی طور پر رہائی دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: راجپال یادیو کے لیے کے بعد

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور