City 42:
2026-07-24@02:04:50 GMT

وزیراعظم یوتھ فری لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے نئی اہلیت کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

 ویب ڈیسک: حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم یوتھ فری لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے نظرِ ثانی شدہ اہلیت کا معیار جاری کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اب اسکیم صرف خالص میرٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اضافی معیارات بھی شامل کیے گئے ہیں، درخواست گزار کا کسی سرکاری یا ایچ ای سی سے تسلیم شدہ یونیورسٹی یا کالج میں باقاعدہ داخلہ ہونا لازمی ہے۔

یہ اسکیم اب BS، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے بھی دستیاب ہوگی، انتخاب کا عمل تعلیمی کارکردگی، تصدیق شدہ ڈومیسائل اور دیگر مقررہ معیارات کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

لاہور:ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی مہلت، لین ڈسپلن یقینی بنانے کی ہدایت جاری

حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل سہولیات تک وسیع رسائی فراہم کرنا، تعلیمی مواقع میں برابری کو فروغ دینا اور ملک بھر میں ڈیجیٹل تعلیم کو تقویت دینا ہے۔

درخواست دینے کے لیے اہل طلبہ کو پہلے اپنی متعلقہ یونیورسٹی یا کالج میں رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی، اس کے بعد اسکیم کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کروانا ہوگی، درخواست کے ساتھ درست تعلیمی ریکارڈ اور شناختی دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا، میرٹ لسٹ جاری ہونے کے بعد منتخب امیدواروں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے۔

اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قلت،شہری پریشان

 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن