کراچی: رینجرز کی کارروائی، متعدد وارداتوں میں ملوث 3 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستان رینجرز (سندھ) نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے داؤد گوٹھ پکا روڈ سعید آباد سے ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث 3 ملزمان عبدالواحد عرف جوجی، مرتضیٰ اور اعجاز کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے 3 عدد موبائل فونز بھی برآمد کر لیے گئے۔
ترجمان سندھ رینجرز نے کہا کہ گرفتار ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں یوسف گوٹھ، گلشنِ مزدور، داؤد گوٹھ، نیول روڈ، حب ریور روڈ اور 24 مارکیٹ میں اسلحے کے زور پر نقدی اور موبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔
ملزمان نے 2023 میں فرار ساتھی کے ہمراہ کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر کریانہ اسٹور کے مالک کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا، اس کے علاوہ ملزمان وارداتوں کے دوران متعدد شہریوں کو زخمی بھی کرچکے ہیں۔
ملزمان چھینے ہوئے موبائل فونز کراچی کے علاقے اسکانی محلہ اتوار بازار میں فروخت کرتے تھے۔
گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں اور اس سے پہلے بھی گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔
ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتار ی کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ گرفتار ملزمان کو بمعہ مسروقہ سامان مزید قانونی کارروائی کے لیئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
عوام سے اپیل ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی کے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔