آئی ٹی برآمدات بھی ماہانہ بنیادوں پر کم ہو جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ایک کے بعد ایک معاشی بحران سر اٹھانے لگا، ملک کی آئی ٹی برآمدات بھی ماہانہ بنیادوں پر کم ہو جانے کا انکشاف۔
آئی ٹی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 14.5فیصد کمی ہوگئی، جنوری میں ترسیلات 374ملین ڈالر رہ گئیں، اس کے باجود رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں 19فیصد اضافہ ہوا۔
اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025ءمیں آئی ٹی ایکسپورٹس 437ملین ڈالر تھیں،جنوری دوہزار 2026ءمیں ترسیلات 374ملین ڈالر رہ گئیں۔
ماہانہ کمی کے باوجود آئی ٹی شعبے کی مجموعی کارکردگی مضبوط رہی، مالی سال دوہزار 2025،26کے پہلے 7ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں 19فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جولائی تا جنوری آئی ٹی ترسیلات دو ارب 61کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں آئی ٹی برآمدات 2 ارب 17کروڑ ڈالر تھیں۔
سالانہ بنیاد پرجنوری 2026ءمیں آئی ٹی برآمدات میں 19فیصد اضافہ ہوا۔ جنوری 2025ءکے 313ملین ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ ماہ ترسیلات 374ملین ڈالر رہیں۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ٹی برآمدات میں میں آئی ٹی برآمدات
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔