Islam Times:
2026-07-24@01:35:34 GMT

سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

سیکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا اور کارروائی کے دوران فورسز نے ہدف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں خفیہ اطلاع پر فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی کی اور اس دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 18 اور 19 فروری کی درمیانی شب ضلع لکی مروت میں خفیہ اطلاع پر مبنی آپریشن کیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا اور کارروائی کے دوران فورسز نے ہدف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 4 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا اور ہلاک خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج علاقے میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ خطرے کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزم استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر اطلاع پر فورسز نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار