بانی پی ٹی آئی کا علاج الشفاء اسپتال میں کرایا جائے، علیمہ خان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا علاج فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل اسپتال میں اُن کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کرایا جائے جبکہ انہوں نے اپنی ممکنہ گرفتاری کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اسی صورت ممکن ہے جب جسٹس سرفراز ڈوگر کیسز کی سماعت کریں، جیسے ہی ضمانتیں منظور ہوں گی، عمران خان کو جیل سے سیدھا اسپتال منتقل کیا جائے گا تاکہ آنکھ کے علاج سمیت مکمل طبی معائنہ ہوسکے، سماعت کے لیے مقرر جج کی چھٹی پر روانگی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ خود کیسز سنیں۔
انہوں نے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم کو عمران خان کی صحت کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مجرمانہ غفلت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرانے کے لیے وکلا کو ہدایات دے دی گئی ہیں، آنکھ کی خرابی اچانک نہیں ہوئی بلکہ یہ مبینہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
علیمہ خان نے وزیر داخلہ محسن نقوی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ خاندان اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں اسپتال میں معائنہ کرایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا، جس سے حکومتی مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں، اگر حُکام کو کچھ چھپانا نہیں تو اسپتال منتقلی سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان پر اور دیگر رہنماؤں پر قائم مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور وہ ان کارروائیوں سے خوفزدہ نہیں، انہیں اندیشہ ہے کہ سچ بولنے کی پاداش میں انہیں طویل عرصے کے لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے، ایسی کارروائیاں سیاسی نظام کو نہیں بچا سکتیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔