رمضان المبارک کیلیے سندھ پولیس کا جامع سیکورٹی پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف ر پورٹر) صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت ماہِ صیام کے موقع پر ترتیب دیے گئے جامع سیکورٹی کنٹی جنسی پلان کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس/ویڈیو لنک کانفرنس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا، جہاں آمد پر جاوید عالم اوڈھو نے ان کا استقبال کیا۔وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رمضان المبارک کے دوران عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا اور ٹریفک ایشوز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افطار و سحر کے اوقات میں شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ضلعی ایس ایس پیز ٹریفک پولیس کو مکمل سپورٹ فراہم کریں تاکہ افطار پوائنٹس، مساجد، امام بارگاہوں،مزارات، درگاہوں اور تجارتی مراکز کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔ انہوں نے کراچی کے تمام انٹری پوائنٹس پر سخت چیکنگ، گداگروں اور مشکوک و مشتبہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، اسنیپ چیکنگ، موبائل گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ گداگروں کو حراست میں لے کر ان کے آبائی شہروں کو واپس بھیجا جائے اور شہر بھر میں سرپرائز وزٹس کے ذریعے سیکورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے زور دیا کہ رمضان المبارک کے دوران زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت لا اینڈ آرڈر پر مکمل کنٹرول یقینی بنایا جائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ مربوط حکمت عملی، کوآرڈینیشن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے موثر استعمال کے ذریعے صوبے بھر میں امن و امان کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو پرامن ماحول میسر آسکے۔اجلاس میں آئی جی سندھ نے رمضان المبارک کے تینوں عشروں پر مشتمل سیکورٹی کنٹی جینسی پلان کی ترجیحات، حساس مقامات کی درجہ بندی، نفری کی تعیناتی، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میکنزم پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تراویح، جمعۃ المبارک، یومِ قدس، یومِ شہادت حضرت علیؓ، طاق راتوں اور عیدالفطر سمیت تمام اہم مواقع پر فول پروف سیکورٹی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں جبکہ دوسرے عشرے میں مارکیٹس پر بڑھتے رش کے پیش نظر خصوصی فوکس رکھا گیا ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، آپریشنز سندھ، زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی ٹریفک، ضلعی ایس ایس پیز کراچی اور اے آئی جی آپریشن نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ ڈی آئی جی حیدرآباد اور متعلقہ ایس ایس پیز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اپنے اپنے اضلاع میں رمضان سیکورٹی حکمت عملی اور ترجیحات سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک کے وزیر داخلہ سندھ انہوں نے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔