سندھ حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کیلیے نئی شرط عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260220-1-3
کراچی (نمائندہ جسارت ) سندھ حکومت کی جانب سے شہریوں کے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد کردی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والے تمام افراد کے لیے پری لائسنس ڈرائیونگ ٹریننگ لازمی قرار دی ہے، یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے 50 ویں اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ بھر میں ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی ڈرائیور ٹریننگ اسکولز قائم کیے جائیں گے اور بغیر تربیت کے کسی بھی امیدوار کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ سال میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت اور لائسنس فراہم کیے جائیں۔بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں ماحولیاتی سیاحت اور جنگلات کے تحفظ کے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ماربل سٹی کراچی منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں بیرون ملک روزگار کے مواقع حاصل ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔