لائیو اسٹریمنگ میں فلٹر بند ہوتے ہی حقیقت بے نقاب، خاتون انفلوئنسر کو ڈیڑھ لاکھ فالوورز کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوشل میڈیا کی چمک دمک اور ڈیجیٹل خوبصورتی کے مصنوعی معیار ایک بار پھر بے نقاب ہوگئے، ایک معروف چینی انفلوئنسر لائیو اسٹریمنگ کے دوران اچانک بیوٹی فلٹر سے محروم ہو گئیں۔ چند لمحوں پر مشتمل یہ غیر متوقع واقعہ ایسا طوفان بن کر آیا کہ محض چند گھنٹوں میں ان کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد فالوورز نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ خاتون حسبِ معمول سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہِ راست نشریات کے ذریعے اپنے مداحوں سے گفتگو میں مصروف تھیں کہ اچانک تکنیکی خرابی کے باعث ان کے چہرے سے بیوٹی فلٹر ہٹ گیا۔ فلٹر کے غائب ہوتے ہی ان کی اصل شکل اسکرین پر نمایاں ہوئی، جس پر ناظرین دنگ رہ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے کمنٹس اور ردعمل کا سیلاب امڈ آیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فلٹر کے بغیر سامنے آنے والی ویڈیو محض چار سیکنڈ پر مشتمل تھی، مگر یہی مختصر کلپ چند ہی گھنٹوں میں دنیا بھر میں وائرل ہوگیا۔ ویڈیو کے پھیلتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے حیرت، تنقید اور طنزیہ تبصروں کے ذریعے ردعمل دیا، جبکہ ہزاروں فالوورز نے انفلوئنسر کو ان فالو کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس اچانک ردعمل نے نہ صرف ان کی آن لائن مقبولیت کو شدید دھچکا پہنچایا بلکہ سوشل میڈیا پر مصنوعی خوبصورتی کے رجحان پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔
خبر ایجنسی کے مطابق صارفین کی بڑی تعداد کا مؤقف تھا کہ مذکورہ انفلوئنسر حد سے زیادہ فلٹر کا سہارا لے رہی تھیں، جس کے باعث ان کی اصل شناخت اور ظاہری شخصیت مکمل طور پر چھپ گئی تھی، فلٹر ہٹتے ہی سامنے آنے والی حقیقت نے مداحوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور یہی وجہ بنی کہ فالوورز کی بڑی تعداد نے فوری طور پر ان سے لاتعلقی اختیار کرلی۔
واضح رہے کہ چین میں لائیو اسٹریمنگ کا رجحان بے حد مقبول ہے، جہاں انفلوئنسرز براہِ راست نشریات کے دوران نہ صرف اپنے مداحوں سے گفتگو کرتے ہیں بلکہ ان کے سوالات کے جواب دیتے اور تبصروں پر فوری ردعمل بھی دیتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ اس قدر عام ہو چکا ہے کہ سوشل میڈیا اسٹارز کی شہرت اور آمدنی کا بڑا حصہ اسی سرگرمی سے وابستہ ہوتا ہے۔
تاہم یہ واقعہ صرف چین تک محدود نہیں رہا، بلکہ دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین میں بھی موضوعِ بحث بن گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ڈیجیٹل دور میں مصنوعی حسن، فلٹر کلچر اور آن لائن شناخت کے حوالے سے ایک اہم تنبیہ ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ حقیقت اور دکھاوے کے درمیان فاصلہ کم ہوتے ہی مقبولیت کس قدر تیزی سے زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے مطابق
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔