بھارت کے ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات کم ہیں: محمد عامر
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر محمد عامر کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔
انہوں نے بھارتی بیٹنگ لائن کو ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’ہارنا منع ہے‘ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2009ء جیتنے والی ٹیم کے فاسٹ بالر نے سُپر 8 مرحلے سے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں سے متعلق پیش گوئی کی۔
View this post on InstagramA post shared by Hasna Mana Hai (@geohasnamanahai)
محمد عامر کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں سُپر 8 مرحلے میں کامیاب ہونے کے بعد سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنالیں گی۔
فاسٹ بالر کا کہنا ہے اگر آپ پاکستان کے خلاف میچ کے علاوہ بھارت کے دیگر مقابلے دیکھ لیں تو ان کی بیٹنگ لائن بکھر جاتی ہے، بیٹنگ کی اس کمزوری کے باعث بھارتی ٹیم پر سُپر 8 مرحلے میں دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس انداز میں جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کھیل رہے ہیں، وہ اپنے راستے میں آنے والی کسی بھی ٹیم کو شکست دے سکتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز کی بالنگ لائن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گڈاکیش موتی، عقیل حسین، جیسن ہولڈر اور شمر جوزف مضبوط اٹیک کے ساتھ کسی بھی بیٹنگ لائن کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیرفین ردرفورڈ اور روومین پاؤل جیسے ہارڈ ہٹرز بھی کسی بھی ٹیم پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
محمد عامر نے جنوبی افریقا کے حوالے سے کہا کہ میں کیوں کہہ رہا ہوں کہ جنوبی افریقا سیمی فائنل میں جائے گا؟ کیونکہ ان کی فاسٹ بالنگ مکمل ہے، اسپن اٹیک مکمل ہے اور بیٹنگ فارم میں ہے۔
دوسری جانب پروگرام کے دیگر پینلسٹس نے رائے دی کہ بھارت یقینی طور پر سیمی فائنل میں جگہ بنائے گا۔
سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل کی پیش گوئی کی، جبکہ احمد شہزاد نے کہا کہ بھارت اور جنوبی افریقا سیمی فائنل تک رسائی حاصل کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیمی فائنل میں جنوبی افریقا کہ بھارت بھارت کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔