اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 990 پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو مثبت رجحان غالب رہا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1,000 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 173,169.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یہ اتار چڑھاؤ پچھلے سیشن میں شدید فروخت کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واپسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
انڈیکس دن کے آغاز میں 174,148 پوائنٹس کی بلند سطح تک پہنچا، تاہم کچھ سرمایہ کاروں کے منافع کے حصول کی وجہ سے یہ انٹرا ڈے کم ترین سطح 169,592.
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
بعدازاں، مارکیٹ میں خرید و فروخت کے ملے جلے اثرات کے باعث انڈیکس دوبارہ بحال ہوا اور دن کے اختتام پر 999.42 پوائنٹس یعنی 0.58 فیصد کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق پچھلے مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بعد جمعہ کو سرمایہ کاروں نے پرکشش قیمتوں پر پوزیشنیں خریدی، جس سے مارکیٹ میں عارضی راحت دیکھی گئی۔
انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت اثر آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، میپل لیف سیمنٹ فیکٹری لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، سسٹمز لمیٹڈ اور فوجی فرٹیلائزر کے شیئرز کا رہا، جنہوں نے مجموعی طور پر 654 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
Market Close Update: Positive Today! ????
???????? KSE 100 ended positive by +999.4 points (+0.58%) and closed at 173,169.7 with trade volume of 245.5 million shares and value at Rs. 17.9 billion. Today's index low was 169,593 and high was 174,148. pic.twitter.com/R12HfwuAiT
— Investify Pakistan (@investifypk) February 20, 2026
بین الاقوامی سطح پر بھی کچھ اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان کے اصلاحی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی اکاؤنٹس میں مضبوطی نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو اسٹاک مارکیٹ نے شدید مندی دیکھی تھی، جہاں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 6,682.81 پوائنٹس یعنی 3.74 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی، جس سے مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ والی صورتحال ظاہر ہوئی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی
عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال رہی۔ جاپان کا نکی ایک فیصد کم ہوا، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.3 فیصد نیچے گیا، جبکہ امریکا میں وال اسٹریٹ پر نجی ایکوئٹی کے حصص میں کمی نے مارکیٹ میں تشویش پیدا کی۔
مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے، پاکستانی روپیہ جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ کے ساتھ 279.56 پر بند ہوا۔
مجموعی حجم 537.64 ملین شیئرز تک کم ہوا، اور کل شیئرز کی مالیت 23.79 ارب روپے رہی۔
حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ سر فہرست رہا جس کے 73.13 ملین شیئرزکا لین دین ہوا، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام اور بینک آف پنجاب سر فہرست رہے۔
جمعہ کو کل 475 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 158 میں اضافہ، 257 میں کمی، اور 60 میں استحکام رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج پاکستان ڈالر وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹاک ایکسچینج پاکستان ڈالر وال اسٹریٹ اسٹاک ایکسچینج اتار چڑھاؤ جمعہ کو
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔