سوڈان میں جاری خونریز تنازع کا واحد حل بامعنی مذاکرات اور سیاسی عمل کی بحالی ہے: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے سوڈان میں جاری خونریز تنازع کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے موقع پر زور دیا ہے کہ بحران کا واحد قابلِ عمل حل بامعنی مذاکرات اور سیاسی عمل کی بحالی ہے۔اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ۔انہوں نے عبوری سوڈانی حکومت کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے اور کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
’’اے پی پی ‘‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سوڈانی عوام طویل عرصے سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی افق بحال کیا جائے۔پاکستانی مندوب نے خاص طور پر دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے مبینہ مظالم کی شدید مذمت کی، جن میں الفاشر اور الجنینہ میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
مدینہ منورہ میں رمضان المبارک کے دوران ریاض الجنہ کی زیارت کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا گیا
انہوں نے امن دستوں، اقوامِ متحدہ کے عملے اور انسانی امدادی کارکنوں پر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور ذمہ داران کا احتساب ضروری ہے۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایک متحد سوڈان نہ صرف اس کے عوام بلکہ افریقہ کے قرن، ساحل اور بحیرہ احمر کے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ لچک اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائیدار سیاسی تصفیے کی جانب پیش رفت کریں۔انسانی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے متاثرہ علاقوں تک محفوظ اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری سے انسانی امداد کے لیے فنڈز میں فوری اضافے کی اپیل کی۔
پنجاب میں 41 فیصد خواتین خون ،80 فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں ، نیوٹریشن انٹرنیشنل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔