امریکا اور چین کے لڑاکا طیارے جنوبی کوریا کے قریب آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے تقریباً 10 ایف-16 لڑاکا طیارے یو ایس فورسز کوریا کے تحت اوسان ایئر بیس سے پرواز کر کے بین الاقوامی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ یہ اڈہ دارالحکومت سیول سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ طیاروں نے بحیرۂ زرد کے اوپر اس علاقے میں پرواز کی جو جنوبی کوریا اور چین کے فضائی دفاعی شناختی زون کے درمیان واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ساتھ تصادم خطے میں ناقابل برداشت تباہی لا سکتا ہے، چینی وزیر دفاع
رپورٹ کے مطابق جیسے ہی امریکی طیارے چین کے ساحل کے قریب پہنچے تو چین نے بھی فوری طور پر اپنے لڑاکا طیارے روانہ کر دیے۔ دونوں ممالک کے طیارے مختصر وقت کے لیے ایک دوسرے کے سامنے رہے، تاہم کسی قسم کی خلاف ورزی یا جھڑپ پیش نہیں آئی۔
یہ خبر سب سے پہلے کوریا ہیرالڈ نے متعدد ذرائع کے حوالے سے دی، جس میں کہا گیا کہ اس مشن میں امریکی طیاروں کی غیر معمولی تعداد شامل تھی، جس کا مقصد چین کو طاقت کا پیغام دینا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا نے اس مشن کے بارے میں جنوبی کوریا کو پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ جبکہ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے تصدیق کی کہ چینی فوج نے سمندری اور فضائی نگرانی کے ذریعے صورتحال کا مؤثر جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے چینی دباؤ سے نکلنے کے لیے میانمار کی نایاب معدنیات پر نظریں گاڑھ لیں
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں اپنی نئی دفاعی حکمت عملی جاری کی ہے، جس میں جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے خلاف دفاع میں مرکزی کردار دینے اور امریکی فوج کی توجہ چین کی جانب منتقل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر، جسے چین اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news yellow sea امریکا آمنے سامنے چین کشیدگی لڑاکا طیارے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا چین کشیدگی لڑاکا طیارے جنوبی کوریا لڑاکا طیارے چین کے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘