صاحبزادہ حامد رضا کے بیان پر سیاسی ہلچل، مختلف رہنماؤں کی پی ٹی آئی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
صاحبزادہ حامد رضا کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔ ٹوئٹ میں کہا گیا کہ صاحبزادہ حامد رضا کو جیل میں قید ہوئے 111 دن سے زائد ہو چکے ہیں اور سوال اٹھایا گیا کہ کیا ان کے کسی اتحادی رہنما نے ملاقات کے دن جیل جا کر ان سے ملاقات کی؟
یہ بھی پڑھیں: سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا
بیان میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی کہ طویل قید کے باوجود اتحادی جماعتوں کی جانب سے عملی اظہارِ یکجہتی دکھائی نہیں دیا۔
صاحبزادہ حامد رضا کا جیل میں کل ملاقات کا دن ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کے اتحادیوں میں کوئی رہنما ان سے ملاقات کے لیے پہنچا۔ ؟ صاحبزادہ حامد رضا کو جیل میں 111 دن سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ کیا کسی کا ملاقات کا فوٹو آپ کے پاس ہو تو ضرور شیئر کیجئے گا۔
— Sahibzada Hamid Raza (@_SahibzadaHamid) February 20, 2026
وفاقی وزیر مملکت عقیل ملک کا ردعملوزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عملاً ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔
پی ٹی آئی عملاً ایک ہی شخصیت کے گرد محدود دکھائی دیتی ہے۔ ان کے وہ اتحادی، جنہوں نے اپنی پوری جماعت ان کے حوالے کر دی، کئی ماہ سے جیل میں ہیں مگر قیادت کی جانب سے ان کے حق میں کوئی مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی۔ یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ جماعت کی توجہ صرف ایک فرد تک محدود ہے۔ https://t.
— Barrister Aqeel Malik (@BrAqeelMalik) February 20, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ اتحادی جنہوں نے اپنی جماعتوں اور سیاسی سرمایہ کاری کو ایک قیادت کے سپرد کیا کئی ماہ سے جیل میں ہیں مگر پارٹی کی جانب سے ان کے حق میں مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیے: سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے عمران خان کو ’معشوق‘ قرار دے دیا
ان کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ جماعت کی توجہ وسیع قیادت کے بجائے صرف ایک فرد تک محدود ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کا مؤقفخیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب نظریے کے بجائے ایک شخصیت کے گرد مرکوز ہو چکی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نہ اتحادیوں کی قدر کی جا رہی ہے، نہ رہنماؤں کا احترام کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ حامد رضا جیسے افراد نے سیاسی جدوجہد میں بڑی قربانیاں دیں مگر آج جماعت کی تمام تر توجہ ایک ہی شخصیت پر مرکوز ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نئی مشکل میں پھنس گئی، سلمان اکرم راجا کے بعد صاحبزادہ حامد رضا بھی مستعفی
انہوں نے کہا کہ سیاست صرف کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ قربانی دینے والوں کے احترام اور عوامی اعتماد کی امانت ہوتی ہے۔
ن لیگ کی تنقیدرہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) حنا پرویز بٹ نے کہا کہ یہ طرز عمل صرف جماعت کا نہیں بلکہ اس کی قیادت کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پی ٹی آئی کا ہی نہیں، بنیادی طور پر ان کے لیڈر کا رویہ ہے. جو شخص عمر بھر ساتھ دینے والے اپنے دوست کے جنازے میں شریک نہیں ہوا وہ کسی کا سگا نہیں. یہی بے اعتنائی، لاپرواہی کا رویہ جناب کے کلٹ کا بھی ہے. وہ لوگ جو ایک شخص کے پیچھے اپنے ملک کا نقصان کرنے پر بھی آمادہ ہیں، کل کو… https://t.co/InopqxCgov
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) February 20, 2026
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص اپنے دیرینہ ساتھی کے جنازے میں شریک نہ ہو وہ کسی کا وفادار نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق یہی بے اعتنائی کا رویہ پارٹی کے کارکنوں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔
حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ جو لوگ ایک شخصیت کے پیچھے چلتے ہوئے ملکی مفادات کو بھی نظرانداز کرنے پر آمادہ ہو جائیں، انہیں مستقبل میں شدید احساسِ محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کا ردعملرکن قومی اسمبلی و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سحر کامران نے کہا کہ یہ صورتحال پی ٹی آئی کی مبینہ خود غرض اور شخصیت پرستی پر مبنی سیاست کی مثال ہے۔
This exemplifies PTI’s self-centered, one-person cult: zero respect for allies, other leaders, workers, or their families. @_SahibzadaHamid Sahib sacrificed everything for #PTI, yet the cult party obsesses only over IK‼️⁰So sad and unfortunate ???? https://t.co/HY2pepurDo
— Senator Sehar Kamran T.I. (@SeharKamran) February 20, 2026
ان کے مطابق اس طرز سیاست میں اتحادیوں، دیگر رہنماؤں، کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی کوئی عملی اہمیت باقی نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھیے: ’یہ سراسر پی ٹی آئی پر الزام ہے‘ فواد چوہدری کا صاحبزادہ حامد رضا کے بیان پر سخت ردعمل
انہوں نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے جماعت کے لیے بڑی قربانیاں دیں مگر اس کے باوجود پارٹی کی توجہ صرف عمران خان تک محدود دکھائی دیتی ہے جو ایک افسوسناک امر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی پر تنقید صاحبزادہ حامد رضا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی پر تنقید صاحبزادہ حامد رضا کے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ پی ٹی آئی شخصیت کے انہوں نے جیل میں
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم