طلبہ کی تخلیقی کاوش: بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس میں فضلہ سے فن تک نمائش
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر میں ماحولیاتی آگاہی اور تخلیقی اظہار کو فروغ دینے کے لیے بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس مڈل سیکشن کے تحت فضلہ سے فن تک کے عنوان سے ایک متحرک اور فکر انگیز نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ نے ضائع شدہ اشیاء کو فن پاروں میں تبدیل کر کے حاضرین کو حیران کر دیا۔
تقریب کا مقصد نئی نسل میں ماحولیاتی ذمہ داری، پائیدار طرزِ زندگی اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کا شعور بیدار کرنا تھا۔ نمائش میں شریک مہمانوں، والدین اور اساتذہ نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اسے تعلیمی اور سماجی لحاظ سے اہم اقدام قرار دیا۔ اس موقع پر اسکول کی پرنسپل تابندہ رضا اور ہیڈ مسٹریس حمیرا شہاب نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ انہیں ماحول دوست رویوں کی عملی تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔
نمائش میں پیش کیے گئے فن پارے ری سائیکل شدہ وسائل جیسے کاغذ، پلاسٹک، شیشے کی بوتلیں، بچ جانے والے کارٹن، بکس، استعمال شدہ کریٹس اور ضائع شدہ لکڑی سے تیار کیے گئے تھے۔ طلبہ نے اپنی تخیلاتی سوچ اور اختراعی تکنیکوں کے ذریعے ان بظاہر بے کار اشیاء کو دیدہ زیب آرٹ ورک میں بدل کر ذمہ دارانہ استعمال اور فضلہ میں کمی کا پیغام اجاگر کیا۔
منتظمین کے مطابق نمائش تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی، جہاں بچوں نے نہ صرف فنکارانہ مہارت دکھائی بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود ماحول دوست سوچ کے ذریعے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ روزمرہ زندگی میں ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کے اصولوں کو اپنائیں گے تاکہ ماحول کے تحفظ اور پائیدار مستقبل کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔