ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے بھارت نے تجارتی خودمختاری گروی رکھ دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: مشترکہ بیان واشنگٹن کی جانب سے جاری کیا گیا اور بعد میں ہندوستانی حکام نے اس کی توثیق کی، جس میں واضح کیا گیا کہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں توانائی، ہوائی جہاز اور پرزہ جات، قیمتی دھاتیں، کوکنگ کوئلہ اور ٹیکنالوجی مصنوعات شامل ہیں۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ "عبوری تجارتی سمجھوتے کے ڈھانچے" نے ہندوستان میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مودی حکومت اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دے رہی ہے، جبکہ ماہرینِ معیشت، زرعی نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں کی ایک بڑی تعداد اسے عدم توازن پر مبنی اور طویل مدتی طور پر نقصان دہ معاہدہ قرار دے رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی زبان میں یا تو "فریم ورک معاہدہ" ہوتا ہے یا "عبوری معاہدہ"، لیکن دونوں کو یکجا کر کے استعمال کرنا غیر معمولی ہے۔ معروف ماہرِ معیشت رتن رائے نے اسی نکتے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک صفحے کے مشترکہ بیان میں ایسے وعدے کئے گئے ہیں جن کے اثرات دہائیوں تک محسوس ہو سکتے ہیں، مگر قانونی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
کچھ دن قبل مشترکہ بیان واشنگٹن کی جانب سے جاری کیا گیا اور بعد میں ہندوستانی حکام نے اس کی توثیق کی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا تھا کہ ہندوستانی وزیراعظم طویل عرصہ سے اٹکے تجارتی سمجھوتہ کے سلسلے میں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہندوستان روسی تیل خریدنا بند کر دے گا۔ ہندوستان امریکی مصنوعات کو بڑی مقدار میں خریدے گا اور امریکہ و وینزویلا سے زیادہ درآمد کرے گا۔ بدلے میں امریکہ ریسیپروکل ٹیرف کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرے گا۔ اس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیرف میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ جاری کیا جس میں امریکی صدر کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لئے "لامحدود امکانات" والی ہے۔ مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں توانائی، ہوائی جہاز اور پرزہ جات، قیمتی دھاتیں، کوکنگ کوئلہ اور ٹیکنالوجی مصنوعات شامل ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کار اور گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹیو نئی دہلی کے بانی اجے شریواستو سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکہ سے آخر ہندوستان درآمد کیا کرے گا، وہ ان صنعتی اور صارف اشیاء کی بہت کم پیداوار کرتا ہے جن کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان کی زبان تشویشناک ہے۔ جہاں ہندوستان نے غیر ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے کا وعدہ کیا ہے، وہیں امریکہ نے ہندوستانی اشیاء کے داخلے کو آسان بنانے کے لئے اپنے قوانین اور ضابطوں میں نرمی دکھانے کی کوئی پابندی ظاہر نہیں کی۔ مشترکہ بیان میں عدم مساوات اتنی واضح تھی کہ مصنف اور مبصر برہما چیلانی نے کہا کہ ہندوستان کی پابندیاں فوری، مقداری اور باقاعدہ نگرانی کے تابع ہیں، جبکہ امریکی رعایتیں مشروط، پلٹنے کے قابل یا صرف اصلاحی نوعیت کی ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندہ اور وائٹ ہاؤس ہندوستان کو ایک بازار کے طور پر دیکھتے ہیں جسے کھولا جانا ہے، نہ کہ ایک اسٹریٹیجک شراکت دار کے طور پر۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیرف میں کمی بظاہر فائدہ مند لگتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بدلے میں دی گئی رعایتیں متناسب ہیں۔ امریکہ نے ہندوستانی مصنوعات کے لئے اپنے غیر ٹیرف ضوابط میں نرمی کی کوئی واضح ضمانت نہیں دی۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں زرعی سبسڈی اور بیمہ پروگرام سالانہ اربوں ڈالر تک پہنچتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندوستانی کسان زیادہ تر موسمیاتی خطرات اور منڈی کی قیمتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ سویا بین تیل، ڈی ڈی جی ایس (مویشی چارہ)، سرخ جوار اور دیگر زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی سے مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ اور راجستھان کے کسان متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح سیب کی درآمد میں نرمی سے ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے باغبانوں کو قیمتوں کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جس پر جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس نے ہند امریکہ معاہدے کو "اقتصادی خودسپردگی" قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ آیا بی جے پی حکومت نے زرعی مفادات اور قومی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکیسٹ) نے بیان جاری کر کے کہا کہ یہ معاہدہ کسانوں اور چھوٹے صنعتکاروں کے خلاف ہے اور اس سے دیہی بحران گہرا ہوگا۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مکمل تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں اور کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل عوامی بحث کرائی جائے۔ کئی علاقائی جماعتوں، خصوصاً پنجاب اور ہماچل پردیش کی نمائندہ پارٹیوں نے بھی زرعی شعبے کے تحفظ کے لئے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
مودی حکومت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ 18 فیصد ٹیرف سے بھارت کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک پر مسابقتی برتری ملے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، سپلائی چین متنوع ہوگی اور توانائی کی درآمدات میں استحکام آئے گا۔ حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ یہ صرف ایک فریم ورک ہے اور حتمی قانونی معاہدے میں قومی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ تجارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیان کی بعض شقیں مبہم ہیں، مثلاً "سپلائی چین کی ہم آہنگی" اور "اقتصادی سلامتی"، اگر ان کا مطلب تیسرے ممالک کے ساتھ تجارت پر نظرثانی ہے، تو اس سے بھارت کی خارجہ و تجارتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک تجارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹریٹیجک فیصلہ ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کا امکان ہے، تو دوسری طرف زرعی اور دیہی معیشت پر ممکنہ دباؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اصل امتحان اس وقت ہوگا جب حتمی قانونی معاہدہ سامنے آئے گا۔ مبصرین نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ امریکہ سے تجارت ہونی چاہیئے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تجارت مساوی شرائط پر ہوگی اور کیا اس میں ہندوستانی کسان، صنعتکار اور صارفین سب کا مفاد محفوظ ہوگا۔ ایک ماہر معیشت و مبصر نے کہا کہ امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ وہی کیا ہے جو ہندوستانی حکومت اپنے شہریوں کے ساتھ کرنے کی عادی ہے۔ ہمارے حقوق چھین لئے اور سزا طے ہوگئی، پھر انہیں بڑی عنایت کے ساتھ کچھ کم کر دیا گیا۔ گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹیو نئی دہلی کے بانی اجے شریواستو نے کہا کہ مودی حکومت شاید یہ امید کر رہی ہے کہ یوکرین کی جنگ جلد ختم ہوجائے گی اور روس پر عائد پابندیاں ہٹ جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں ہندوستانی کا کہنا ہے کہ نے ہندوستان نے کہا کہ کیا گیا کے ساتھ کے لئے ہیں کہ کیا ہے
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز