سندھ اسمبلی میں ایم پی اے کو دھمکی کا ڈراپ سین، ایم کیو ایم اراکین میں صلح بھی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت نے اجلاس کے دوران ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے تاہم بعد میں دونوں اراکین کے درمیان صلح صفائی ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اورحیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دھمکی انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی اور کہا کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ شوکت راجپوت نے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مجھے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعد میں دوبارہ وکالت شروع کروں گا اور پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔
اس پر ایوان میں بیٹھے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، اسپیکر اسمبلی ہاﺅس کے کسٹوڈین ہے لہذا آپ رولنگ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایس ایچ او کو بھی کال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا۔ اس قسم کی شکایت بہت شرمناک بات ہے ۔
اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلا س ختم ہونے سے پہلے یہ معاملہ حل کریںم بصورت ودیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔
سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ان کی پارٹی گروپنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اگرکسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد بھی نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا بندوبست کرتا ہوںم اگر رانا شوکت کی جان یا مال کو کوئی بھی نقصان ہوا تو جن کا انہوں نے نام لیا میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔
ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔
قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن ایم کیو ایم کے ایم این اے اقبالُ محسود مسلح افراد کے ساتھ ان دفتر میں آئے اور تالے توڑے اور آج ہاﺅس میں انہیں پی ایس پی گروپ کے ایم پی اے شارق جمال نے دھمکی دی۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اسپیکر سے کہا کہ میری درخواست ہے کہ بزنس چلا لیں۔ اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ پہلے قوانین پڑھیں پھر بات کریں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ معاملہ حل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میری درخواست ہے کے کہ دھمکی دینے والے رکن کی ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبرشپ معطل کریں۔
شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے اورآئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔
ایوان میں شور شرابہ کرنے اور اپنے ارکان کو جواب دینے پر اکسانے کی ترغیب دینے پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی۔
اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ انجنیئر عثمان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے۔
اسی اثنا ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے ۔
آخری تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گروپوں میں ہونے والے تنازعے کا تصفیہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے چیمبر میں ہوا اور دونوں اراکین نے ایک دوسرے سے صلح صفائی کرلی۔
ذرائع کے مطابق کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رانا شوکت، شارق جمال کو معاف کردیں گے جبکہ انجینئر عثمان کی معطلی کو بھی کل ختم کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی ایوان میں اسمبلی کے نے کہا کہ ایم پی اے کے مطابق دھمکی دی انہوں نے کے ایم
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ