Jasarat News:
2026-06-02@22:54:11 GMT

چوتھی تراویح

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260221-03-3
آج کی تراویح میں چوتھے پارے کے ثلث سے پانچویں پارے کے اختتام تک تلاوت کی گئی، جو سورہ النساء پر مشتمل ہے۔ سورہ النساء مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں نوزائیدہ اسلامی معاشرے کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں جو سورہ البقرہ کا تسلسل ہے۔ اس سورت میں وراثت، حقوقِ یتامیٰ، تعدد ازواج، منافقین کا طرز عمل اور ان کے مقابلے کے لیے حکمت عملی، غیرجانبدار قبائل سے تعلقات، اسلامی اخلاق و آداب، تیمم، معاشرتی، معاشی، تعزیری اور فوجداری قوانین، صلاۃ القصر اور صلاۃ الخوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔

سورت کے پہلے رکوع میں انسانوں کو بتایا گیا کہ تم ایک مرد و عورت سے پیدا کیے گئے ہو، تمہیں مختلف قبیلوں میں تقسیم کرنے کا مقصد صرف آپسی تعارف میں آسانی ہے نہ کہ فخر و تکبر۔ خالق کے ہاں صرف وہی شخص بہترین ہے جو اس سے ڈرنے والا ہو۔ زیر کفالت یتیموں کے مالکی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ تعدد ازواج کی چار تک مشروط اجازت دی کہ اگر ان کے مابین عدل و انصاف کر سکتے ہو تو کرلو۔ ترکے (میراث) کی تقسیم میں علی الترتیب میت کی تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائی، ایک تہائی وصیت کا نفاذ اور آخر میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ورثاء کے مابین مال کی تقسیم ہے۔

دوسرے رکوع میں وراثت کے مسائل اور افراد کے حصے بیان ہوئے ہیں۔ تیسرے رکوع میں عورتوں کی جانب سے بدکاری کی سزا، ان کی توبہ اور ان کے ساتھ شوہر کو بہترین طرز عمل اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چوتھے اور پانچویں رکوع میں محرمات کے تفصیلی ذکر کے بعد نکاح کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے رکوع میں مرد کی قوامیت بیان کی گئی ہے کہ معاشی ذمے داریاں مرد پر اور گھریلو معاملات کی ذمے داریاں عورت پر ڈالی گئی ہیں۔ ساتویں رکوع میں تیمم کی مشروعیت اور اس کے مسائل بیان ہوئے۔ اللہ، رسول اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ذمے داران کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔ یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے غیر مشروط ہوگی جبکہ اولی الامر کی اطاعت کے لیے ان دونوں ہستیوں کی اطاعت مشروط رکھی ہے کہ خالق کی معصیت میں اولی الامر کی اطاعت نہ کی جائے۔ آٹھویں رکوع میں طاغوت کا ذکرہے، طاغوت وہ فرد، قوت و منصب جو اللہ کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دے اور اس پر ڈٹ جائے۔ نویں اور دسویں رکوع میں جہاد کا حکم دیا گیا کہ بالآخر تم کیوں بے بس و لاچار مرد و خواتین کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے۔ گیارھویں رکوع میں وہ مسلمان جو دارالاسلام قائم ہونے کے بعد ابھی تک دارالکفر میں قیام پذیر تھے، انہیں وہاں سے ہجرت کی تلقین کی گئی۔ تیرھویں اور چودھویں رکوع میں ایک مسلمان کا قتل اور قتل ِ خطا کا ذکر کیا گیا، اور اس کی سزا دیّت، غلام کی آزادی اور کفارے کے روزے بتائی گئی، قتل خطا اتفاقی طور پر قتل کو کہتے ہیں۔ جبکہ جان بوجھ کر کسی کی جان لینے والے کو دائمی جہنم کا مستحق بتایا گیا ہے۔ اسی رکوع میں پھر سے دارالاسلام ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پندھویں رکوع میں صلاۃ الخوف اور حالت سفر میں صلاۃ القصر کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ صلاۃ الخوف یعنی حالت ِ جنگ میں نماز میں کافی رعایتیں دیں گئیں ہیں، جیسے کہ جہاں رْخ ہو، سواری پر ہی، اگرچہ کپڑوں پر خون لگا ہوا ہو اور حالت نماز میں چلنا وغیرہ۔ صلاۃ القصر یعنی سفر کی حالت میں نماز میں تخفیف کی گئی کہ صرف فرائض ادا کرلو اور وبھی آدھے، سوائے فجر و مغرب کے۔ سترہویں رکوع میں توحید باری تعالیٰ کا بیان ہے اور اللہ کا اعلان کا تذکرہ ملتا ہے کہ ’’اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا‘‘۔ انیسویں رکوع میں خواتین کے ساتھ معاملات اور عدل کا حکم دیا گیا ہے، خانگی معاملات کو کچہریوں کے بجائے دونوں خاندانوں کے بڑوں کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بیسویں رکوع سے اختتام ِ پارہ تک منافقین کے احوال بتائے گئے کہ ان منافقین میں سے ہر ایک کا طریقۂ واردات مختلف ہے اس لیے اب ان سے ان ہی کے طرز واردات کے مطابق حکمت عملی طے کرو۔ پانچویں پارے کے آخر میں اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایسی مجلسوں میں بیٹھنا، جہاں اللہ کی آیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہو، اہل ِ ایمان کے شایانِ شان نہیں۔ ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔ آج کے دور میں ان آیات کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے جہاں شیطان ہر طرف ننگا ناچ ناچ رہا ہے۔

عابد علی جوکھیو سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا حکم دیا گیا کے مسائل کی اطاعت رکوع میں کے لیے کی گئی گئی ہے اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر