data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-03-3
آج کی تراویح میں چوتھے پارے کے ثلث سے پانچویں پارے کے اختتام تک تلاوت کی گئی، جو سورہ النساء پر مشتمل ہے۔ سورہ النساء مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں نوزائیدہ اسلامی معاشرے کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں جو سورہ البقرہ کا تسلسل ہے۔ اس سورت میں وراثت، حقوقِ یتامیٰ، تعدد ازواج، منافقین کا طرز عمل اور ان کے مقابلے کے لیے حکمت عملی، غیرجانبدار قبائل سے تعلقات، اسلامی اخلاق و آداب، تیمم، معاشرتی، معاشی، تعزیری اور فوجداری قوانین، صلاۃ القصر اور صلاۃ الخوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
سورت کے پہلے رکوع میں انسانوں کو بتایا گیا کہ تم ایک مرد و عورت سے پیدا کیے گئے ہو، تمہیں مختلف قبیلوں میں تقسیم کرنے کا مقصد صرف آپسی تعارف میں آسانی ہے نہ کہ فخر و تکبر۔ خالق کے ہاں صرف وہی شخص بہترین ہے جو اس سے ڈرنے والا ہو۔ زیر کفالت یتیموں کے مالکی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ تعدد ازواج کی چار تک مشروط اجازت دی کہ اگر ان کے مابین عدل و انصاف کر سکتے ہو تو کرلو۔ ترکے (میراث) کی تقسیم میں علی الترتیب میت کی تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائی، ایک تہائی وصیت کا نفاذ اور آخر میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ورثاء کے مابین مال کی تقسیم ہے۔
دوسرے رکوع میں وراثت کے مسائل اور افراد کے حصے بیان ہوئے ہیں۔ تیسرے رکوع میں عورتوں کی جانب سے بدکاری کی سزا، ان کی توبہ اور ان کے ساتھ شوہر کو بہترین طرز عمل اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چوتھے اور پانچویں رکوع میں محرمات کے تفصیلی ذکر کے بعد نکاح کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے رکوع میں مرد کی قوامیت بیان کی گئی ہے کہ معاشی ذمے داریاں مرد پر اور گھریلو معاملات کی ذمے داریاں عورت پر ڈالی گئی ہیں۔ ساتویں رکوع میں تیمم کی مشروعیت اور اس کے مسائل بیان ہوئے۔ اللہ، رسول اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ذمے داران کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔ یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے غیر مشروط ہوگی جبکہ اولی الامر کی اطاعت کے لیے ان دونوں ہستیوں کی اطاعت مشروط رکھی ہے کہ خالق کی معصیت میں اولی الامر کی اطاعت نہ کی جائے۔ آٹھویں رکوع میں طاغوت کا ذکرہے، طاغوت وہ فرد، قوت و منصب جو اللہ کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دے اور اس پر ڈٹ جائے۔ نویں اور دسویں رکوع میں جہاد کا حکم دیا گیا کہ بالآخر تم کیوں بے بس و لاچار مرد و خواتین کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے۔ گیارھویں رکوع میں وہ مسلمان جو دارالاسلام قائم ہونے کے بعد ابھی تک دارالکفر میں قیام پذیر تھے، انہیں وہاں سے ہجرت کی تلقین کی گئی۔ تیرھویں اور چودھویں رکوع میں ایک مسلمان کا قتل اور قتل ِ خطا کا ذکر کیا گیا، اور اس کی سزا دیّت، غلام کی آزادی اور کفارے کے روزے بتائی گئی، قتل خطا اتفاقی طور پر قتل کو کہتے ہیں۔ جبکہ جان بوجھ کر کسی کی جان لینے والے کو دائمی جہنم کا مستحق بتایا گیا ہے۔ اسی رکوع میں پھر سے دارالاسلام ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پندھویں رکوع میں صلاۃ الخوف اور حالت سفر میں صلاۃ القصر کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ صلاۃ الخوف یعنی حالت ِ جنگ میں نماز میں کافی رعایتیں دیں گئیں ہیں، جیسے کہ جہاں رْخ ہو، سواری پر ہی، اگرچہ کپڑوں پر خون لگا ہوا ہو اور حالت نماز میں چلنا وغیرہ۔ صلاۃ القصر یعنی سفر کی حالت میں نماز میں تخفیف کی گئی کہ صرف فرائض ادا کرلو اور وبھی آدھے، سوائے فجر و مغرب کے۔ سترہویں رکوع میں توحید باری تعالیٰ کا بیان ہے اور اللہ کا اعلان کا تذکرہ ملتا ہے کہ ’’اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا‘‘۔ انیسویں رکوع میں خواتین کے ساتھ معاملات اور عدل کا حکم دیا گیا ہے، خانگی معاملات کو کچہریوں کے بجائے دونوں خاندانوں کے بڑوں کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بیسویں رکوع سے اختتام ِ پارہ تک منافقین کے احوال بتائے گئے کہ ان منافقین میں سے ہر ایک کا طریقۂ واردات مختلف ہے اس لیے اب ان سے ان ہی کے طرز واردات کے مطابق حکمت عملی طے کرو۔ پانچویں پارے کے آخر میں اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایسی مجلسوں میں بیٹھنا، جہاں اللہ کی آیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہو، اہل ِ ایمان کے شایانِ شان نہیں۔ ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔ آج کے دور میں ان آیات کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے جہاں شیطان ہر طرف ننگا ناچ ناچ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا حکم دیا گیا کے مسائل کی اطاعت رکوع میں کے لیے کی گئی گئی ہے اور اس
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ