Jasarat News:
2026-07-24@01:47:53 GMT

اقامت دین کا موسم

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260221-03-5
کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا مہمان ہمارے درمیان ہے۔ قرآن کا مہینہ، روزے کا مہینہ، جودو سخا کا مہینہ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ۔ وہ لوگ جو اس مہینے اپنا دامن رحمت الٰہی کے خزانوں سے بھر لیتے ہیں، جنہیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عافیت، سہولت اور آسانی عطا فرمائی ہے، رمضان میں ان کے معمولات بدل جاتے ہیں۔ وہ رمضان کا شایان شان استقبال کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں رمضان کے ایک ایک لمحے سے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی قربت کشید کرسکیں۔ وہ راتوں کو بارگاہ خداوندی میں کھڑے رہتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کو عبادت سے قیمتی بنانے، مسجدوں کو مسکن اور سجدوں کو معمول بنا لینے میں ایک بات فراموش کردی جاتی ہے وہ یہ کہ رمضان غلبہ دین اور اقامت دین کی جدوجہد کا مہینہ بھی ہے۔ رمضان اسلامی فتوحات کا مہینہ ہے۔ سیدنا حمزہؓ کی قیادت میں پہلا سریہ رمضان 1 ہجری مارچ 623ء کے مہینے میں ہوا۔ دوہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوتے ہیں اور دو ہجری میں ہی غزوہ بدر 17 رمضان کو لڑی گئی۔ غزوہ احد شوال کے مہینے میں لڑی گئی لیکن اس کی تیاری ہوئی رمضان کے مہینے میں۔ 14 فٹ گہری اور 28 فٹ چوڑی اور 5 کلو میٹر طویل خندق جو غزوہ احزاب کے وقت کھودی گئی تھی وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا۔ بازنطینی عیسائیوں کے خلاف غزوہ تبوک جس میں تیس ہزار صحابہ نے شرکت کی تھی وہ بھی رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ مکہ فتح ہوا رمضان کے مہینے میں۔ سوچیے رمضان کا مہینہ ہے، مدینہ مقام ہے جس میں ایک رکعت کا ثواب مسجد نبوی میں ہزار گنا بڑھ جاتا ہے لیکن آپؐ اور صحابہ کرامؓ اس ثواب کو چھوڑ کرغزوات میں، غلبہ دین کی جدوجہد میں شرکت فرمارہے ہیںکیونکہ وہ فرض ہے۔ بعد کے ادوار میں بھی مسلمانوں کا یہی شعار رہا۔ خلیفہ معتصم باللہ کی قیادت میں روم کا سب سے بڑا اور ناقابل تسخیر قلعہ عموریہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا۔ راجا داھر کو شکست بھی 7 رمضان کو دی گئی تھی۔ نورالدین زنگی نے صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقدس کے حصول کی راہ بھی رمضان کے مہینے نکالی تھی۔ اندلس رمضان کے مہینہ میں فتح ہوا۔ جنوبی فرانس رمضان کے مہینے میں 103 ہجری میں فتح ہوا۔ یہ رمضان کا مہینہ ہی تھا جس میں منگولوں کو عین جالوت کے مقام پر شکست دی گئی۔

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنے خطبات جمعہ میں ایک حدیث بیان فرمائی ہے۔ سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو! جبرائیل نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لیے بھی میری وجہ سے اس بندہ کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی) اس حدیث میں رسول اللہؐ نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق، فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اس بستی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا پورا فرماں بردار تھا، ہمہ وقت عبادت میں مصروف۔ اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بداعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرائیل ؑ کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو۔

اسلام ایک توازن کا نام ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے دین کے نفاذ اور غلبے کی جدوجہد۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رضا اور قرب کے لیے دونوں میدانوں میں عمل۔ عبادات کے ساتھ ساتھ غلبہ دین کی جدوجہد میں بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو مومن کی شرکت درکار ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا قول ہے: ’’ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ مذہبی آدمی ہو، جائو مسجدوں میں عبادت اور وعظ وتدریس میں مصروف رہو لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا مذہب جوگیوں اور سنیاسیوں کا مذہب نہیں ہے بلکہ ہمارا دین پوری زندگی، سیاسیات، معاشیات، تعلیمات وغیرہ سب پر حاوی ہے‘‘ اسیر مالٹاشیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ تمام مذہبی، تمدنی، اخلاقی اور سیاسی ضرورتوں کے متعلق ایک کامل اور مکمل نظام رکھتا ہے۔ جو لوگ موجودہ زمانے کی کش مکش میں حصہ لینے سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور صرف حجروں میں بیٹھے رہنے کو اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھتے ہیں وہ اسلام کے پاک وصاف دامن پر ایک بدنما داغ لگاتے ہیں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہرے پر نماز کا نور اور ذکراللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا جلد اٹھو اور اس امت مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچائو تو ان کے دلوں پر خوف وہراس طاری ہوجاتا ہے۔ خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامان حرب وضرب کا خوف طاری ہوجاتا ہے‘‘۔

تصور کیجیے قبلہ اوّل یہود کے قبضے میں ہے، فلسطین لہو لہان ہے، غزہ میں پانچ مہینے میں دو سے تین لاکھ مسلمان شہید کیے جا چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، امریکا، روس، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی افواج نے کون سا ظلم ہے جو مسلمانوں پر نہیں کیا، عراق اور افغانستان میں بیسیوں لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے ہوں اور کوئی مسلمان محض اور محض مساجد اور خانقاہوں میں ذکر وفکر صبح گاہی میں مصروف ہو! اسے پتا ہی نہ ہو کہ عالم اسلام پر کیا بیت رہی ہے۔ ٹھیک ہے، باطل طاقتور اور آپ کمزور ہیں لیکن دکھ افسوس اور شرم سے آپ کے چہرے کا رنگ تو متغیر ہونا چاہیے، چہرے پر شکن تو پڑے، غصہ تو آئے۔ باطل کو مٹانے کی تڑپ تو ہو، آپ اپنے ملک کی افواج کو ان مظالم پر حرکت میں آنے کے لیے مجبور کرنے میں حصہ تو لیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور کوئی شخص محض اپنے آپ کو اُجالنے اور اپنے تزکیہ میں مصروف ہے، ہمہ وقت اللہ اللہ میں لگا ہوا ہے تواس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنا انجام سوچ لے۔۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری؍ کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری؍ ترے دین وادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی؍ یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری۔

مذہبی لوگوں میں بھی بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو رمضان المبارک میں نماز روزوں کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے سامنے روتے اور گڑ گڑاتے ہیں امت مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر امت کی صورت حال کو تبدیل کرنے کی عملی کوششوں میں حصہ نہیں لیتے، حکمرانوں کا محاسبہ، سرمایہ دارانہ سودی نظام کا خاتمہ، اسلام کا نفاذ، دین کا غلبہ اور امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جدوجہد ان کی فکر میں کہیں موجود نہیں توسوچیے محض دعائوں پر اکتفا نتیجہ خیز ہوسکتا ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ سیدا لمرسلینؐ کا فرمان ہے ’’اے لوگو! اللہ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ تم دعا کرو اور میں تمہاری پکار کا جواب نہ دوں اور تم مجھ سے طلب کرو اور میں تمہیں عطا نہ کرو اور تم مجھ سے فتح طلب کرو اور میں تمہیں فتح نصیب نہ کروں‘‘۔ (احمد، ابن حبان، بیقہی)

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رمضان کے مہینے میں اللہ سبحانہ اللہ تعالی بھی رمضان کی جدوجہد میں مصروف رمضان کا کا مہینہ اللہ کی کرو اور کے ساتھ فتح ہوا میں ایک لیکن ا کے لیے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف