Jasarat News:
2026-06-02@23:25:30 GMT

اقامت دین کا موسم

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260221-03-5
کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا مہمان ہمارے درمیان ہے۔ قرآن کا مہینہ، روزے کا مہینہ، جودو سخا کا مہینہ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ۔ وہ لوگ جو اس مہینے اپنا دامن رحمت الٰہی کے خزانوں سے بھر لیتے ہیں، جنہیں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عافیت، سہولت اور آسانی عطا فرمائی ہے، رمضان میں ان کے معمولات بدل جاتے ہیں۔ وہ رمضان کا شایان شان استقبال کرتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں رمضان کے ایک ایک لمحے سے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی قربت کشید کرسکیں۔ وہ راتوں کو بارگاہ خداوندی میں کھڑے رہتے ہیں اور دن میں روزے رکھتے ہیں۔

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کو عبادت سے قیمتی بنانے، مسجدوں کو مسکن اور سجدوں کو معمول بنا لینے میں ایک بات فراموش کردی جاتی ہے وہ یہ کہ رمضان غلبہ دین اور اقامت دین کی جدوجہد کا مہینہ بھی ہے۔ رمضان اسلامی فتوحات کا مہینہ ہے۔ سیدنا حمزہؓ کی قیادت میں پہلا سریہ رمضان 1 ہجری مارچ 623ء کے مہینے میں ہوا۔ دوہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوتے ہیں اور دو ہجری میں ہی غزوہ بدر 17 رمضان کو لڑی گئی۔ غزوہ احد شوال کے مہینے میں لڑی گئی لیکن اس کی تیاری ہوئی رمضان کے مہینے میں۔ 14 فٹ گہری اور 28 فٹ چوڑی اور 5 کلو میٹر طویل خندق جو غزوہ احزاب کے وقت کھودی گئی تھی وہ بھی رمضان کا مہینہ تھا۔ بازنطینی عیسائیوں کے خلاف غزوہ تبوک جس میں تیس ہزار صحابہ نے شرکت کی تھی وہ بھی رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ مکہ فتح ہوا رمضان کے مہینے میں۔ سوچیے رمضان کا مہینہ ہے، مدینہ مقام ہے جس میں ایک رکعت کا ثواب مسجد نبوی میں ہزار گنا بڑھ جاتا ہے لیکن آپؐ اور صحابہ کرامؓ اس ثواب کو چھوڑ کرغزوات میں، غلبہ دین کی جدوجہد میں شرکت فرمارہے ہیںکیونکہ وہ فرض ہے۔ بعد کے ادوار میں بھی مسلمانوں کا یہی شعار رہا۔ خلیفہ معتصم باللہ کی قیادت میں روم کا سب سے بڑا اور ناقابل تسخیر قلعہ عموریہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا۔ راجا داھر کو شکست بھی 7 رمضان کو دی گئی تھی۔ نورالدین زنگی نے صلیبیوں کو شکست دے کر بیت المقدس کے حصول کی راہ بھی رمضان کے مہینے نکالی تھی۔ اندلس رمضان کے مہینہ میں فتح ہوا۔ جنوبی فرانس رمضان کے مہینے میں 103 ہجری میں فتح ہوا۔ یہ رمضان کا مہینہ ہی تھا جس میں منگولوں کو عین جالوت کے مقام پر شکست دی گئی۔

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنے خطبات جمعہ میں ایک حدیث بیان فرمائی ہے۔ سیدنا جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو! جبرائیل نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لیے بھی میری وجہ سے اس بندہ کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی) اس حدیث میں رسول اللہؐ نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق، فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اس بستی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا پورا فرماں بردار تھا، ہمہ وقت عبادت میں مصروف۔ اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بداعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرائیل ؑ کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو۔

اسلام ایک توازن کا نام ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے دین کے نفاذ اور غلبے کی جدوجہد۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رضا اور قرب کے لیے دونوں میدانوں میں عمل۔ عبادات کے ساتھ ساتھ غلبہ دین کی جدوجہد میں بھی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو مومن کی شرکت درکار ہے۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا قول ہے: ’’ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ مذہبی آدمی ہو، جائو مسجدوں میں عبادت اور وعظ وتدریس میں مصروف رہو لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا مذہب جوگیوں اور سنیاسیوں کا مذہب نہیں ہے بلکہ ہمارا دین پوری زندگی، سیاسیات، معاشیات، تعلیمات وغیرہ سب پر حاوی ہے‘‘ اسیر مالٹاشیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ فرماتے ہیں: ’’اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ تمام مذہبی، تمدنی، اخلاقی اور سیاسی ضرورتوں کے متعلق ایک کامل اور مکمل نظام رکھتا ہے۔ جو لوگ موجودہ زمانے کی کش مکش میں حصہ لینے سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور صرف حجروں میں بیٹھے رہنے کو اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھتے ہیں وہ اسلام کے پاک وصاف دامن پر ایک بدنما داغ لگاتے ہیں۔ بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہرے پر نماز کا نور اور ذکراللہ کی روشنی جھلک رہی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا جلد اٹھو اور اس امت مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچائو تو ان کے دلوں پر خوف وہراس طاری ہوجاتا ہے۔ خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اور ان کے سامان حرب وضرب کا خوف طاری ہوجاتا ہے‘‘۔

تصور کیجیے قبلہ اوّل یہود کے قبضے میں ہے، فلسطین لہو لہان ہے، غزہ میں پانچ مہینے میں دو سے تین لاکھ مسلمان شہید کیے جا چکے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، امریکا، روس، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی افواج نے کون سا ظلم ہے جو مسلمانوں پر نہیں کیا، عراق اور افغانستان میں بیسیوں لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے ہوں اور کوئی مسلمان محض اور محض مساجد اور خانقاہوں میں ذکر وفکر صبح گاہی میں مصروف ہو! اسے پتا ہی نہ ہو کہ عالم اسلام پر کیا بیت رہی ہے۔ ٹھیک ہے، باطل طاقتور اور آپ کمزور ہیں لیکن دکھ افسوس اور شرم سے آپ کے چہرے کا رنگ تو متغیر ہونا چاہیے، چہرے پر شکن تو پڑے، غصہ تو آئے۔ باطل کو مٹانے کی تڑپ تو ہو، آپ اپنے ملک کی افواج کو ان مظالم پر حرکت میں آنے کے لیے مجبور کرنے میں حصہ تو لیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور کوئی شخص محض اپنے آپ کو اُجالنے اور اپنے تزکیہ میں مصروف ہے، ہمہ وقت اللہ اللہ میں لگا ہوا ہے تواس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنا انجام سوچ لے۔۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری؍ کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری؍ ترے دین وادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی؍ یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری۔

مذہبی لوگوں میں بھی بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو رمضان المبارک میں نماز روزوں کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے سامنے روتے اور گڑ گڑاتے ہیں امت مسلمہ کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر امت کی صورت حال کو تبدیل کرنے کی عملی کوششوں میں حصہ نہیں لیتے، حکمرانوں کا محاسبہ، سرمایہ دارانہ سودی نظام کا خاتمہ، اسلام کا نفاذ، دین کا غلبہ اور امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جدوجہد ان کی فکر میں کہیں موجود نہیں توسوچیے محض دعائوں پر اکتفا نتیجہ خیز ہوسکتا ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ ہم فرض ترک کردیں اور صرف نوافل کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرسکیں؟؟ سیدا لمرسلینؐ کا فرمان ہے ’’اے لوگو! اللہ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ تم دعا کرو اور میں تمہاری پکار کا جواب نہ دوں اور تم مجھ سے طلب کرو اور میں تمہیں عطا نہ کرو اور تم مجھ سے فتح طلب کرو اور میں تمہیں فتح نصیب نہ کروں‘‘۔ (احمد، ابن حبان، بیقہی)

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رمضان کے مہینے میں اللہ سبحانہ اللہ تعالی بھی رمضان کی جدوجہد میں مصروف رمضان کا کا مہینہ اللہ کی کرو اور کے ساتھ فتح ہوا میں ایک لیکن ا کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی