توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میں: آج تم یہ توبہ اور تائب ہونے کے مشورے کسے دینا چاہ رہے ہو، تمہاری بات کوئی سنے گا بھی یا ہمیشہ کی طرح بس ہم دونوں ہی اپنے دل کے پھپھولوں کو پھوڑتے رہیں گے۔
وہ: ملک کے موجودہ حالات سیاسی، معاشی اور سماجی تمام ہی حوالوں سے بہت تیزی سے ابتر سے ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملکی سیاست توکئی عشروں سے اسی طرح بیساکھیوں پر کھڑی ہے جو جمہوریت اور عدم جمہوریت ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک اشارے پر گھٹنے کے بل گرتی اور پھر انہیں بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہوتی رہی ہے۔ اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت سیاسی نظام کی مضبوطی کے بغیر مستحکم نہیں ہوسکتی۔ ریاست کے ان دونوں اداروں کی مسلسل بدحالی، ناکامی اور کمزوری کے نتائج لامحالہ ہمارے سماجی ڈھانچوں کی شکست وریخت پر مرتب ہونا ایک فطری امر تھا۔ لہٰذا آج ہم ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جہاں عزت، نیک نامی اور کامیابی کا حصول صرف اور صرف رشوت اوربے ایمانی کے رستے ہی سے ممکن ہے۔
میں: تو اس سارے معاملے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا لینا دینا ہے؟
وہ: صرف لینا دینا ہی نہیں سارا کیا دھرا اسی کا ہے، جس کا آغاز قیام پاکستان کے چند ہی سال بعد ہوگیا تھا، ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنے زیر اثر لانے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو بلیک میلنگ اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے زیر دام لانے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا اور گاہے گاہے اپنی مرضی کی سیاسی جماعتوں کے قیام کا عمل بھی مستقل بنیادوں پر بدستور چلتا رہا۔ ملک کی دوبڑی نام نہاد جمہوری و سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، ج، ف، ق، گ سب ہی نے آمریت کی کوکھ سے جنم لیا۔ پاکستان کے ایک روزنامے سے وابستہ ایک مرحوم صحافی کے بقول بھٹو صاحب کی پارٹی کے پیچھے جنرل ایوب خان کی آشیرباد تھی اور جنرل ضیا کے دور میں نواز شریف کی مسلم لیگ کا قیام جنرل جیلانی کے طفیل عمل میں آیا۔ دونوں بڑے صوبوں میں زبان اور قومیت کے تعصب کی بنیاد پر بنائی گئی ان دونوں پارٹیوں نے پاکستان کی مسلم شناخت اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کو فراموش کرانے میں اپنا کردار بخوبی نبھایا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے دونوں جماعتوں کو باری باری اقتدار کا لالی پاپ تھما کر اپنا الو ہمیشہ سیدھا رکھا۔ جس نے جب ذرا منہ زوری کی کوشش کی تو بیساکھی کھینچ کر ہاتھ کے ہاتھ سبق سکھادیا۔ جب دونوں منہ زور ہوئے تو تیسرے کو لاکھڑا کیا اور تیسرا خلاف توقع ہٹ دھرمی پہ اُتر آیا تو پرانے چاولوں کو گرتی ہوئی معیشت اور آمری جمہوریت کو بچانے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے پر بآسانی آمادہ کرلیا گیا۔ مگر یہ سارا معاملہ تشویشناک اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا اور دیگر باخبر ذرائع کے ذریعے ملک کے عام آدمی کو بھی برسوں سے جاری اس کھیل کے تمام دائوپیچ سے مکمل آگاہی حاصل ہوگئی تو اعلان کرنے والوں کو مجبوراً گزشتہ دو تین سال کے دوران میڈیا کے سامنے قوم کو کئی بار یہ باور کرانا پڑا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا آمری جمہوریت کا یہ زیر نظر ماڈل اسی تسلسل سے آگے بڑھ رہا ہے اور جہاں تک معیشت کی بات ہے تو بقول غالبؔ قرض کی مے پینے کا عمل حسب ِ سابق زوروں پر ہے اور معاشی بدحالی کا اندازہ اس سال اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ زکواۃ کے نصاب سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جو نصاب ۲۰۲۴ء میں ایک لاکھ پینتیس ہزار اور ۲۰۲۵ء میں ایک لاکھ اُناسی ہزار کے لگ بھگ تھا وہ ۲۰۲۶ء کے آتے آتے محض ایک سال کے عرصے میں پانچ لاکھ کی خطیر رقم سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔
میں: ابھی بھی ہم دل کے پھپھولے ہی پھوڑ رہے ہیں، کیا تمہارے پاس اس تمام صورت حال سے نکلنے اور ملک کو صحیح ڈگر پر ڈالنے کے لیے کوئی حل یا ترکیب ہے؟
وہ: بالکل ہے، سب سے پہلے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غلطیوں اور گناہوں پر توبہ کرنا ہوگی، نظریہ ضرورت اور قوم کے وسیع تر مفاد میں باربار آئین توڑنے کی توبہ، عدالتوں پر بزور ِ طاقت اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کرانے کی توبہ، ہر دور میں خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے سیاست دانوں اور دوسرے اداروں کو نااہل اور بے ایمان قرار دینے کی توبہ، منتخب حکومتوں کو بندوق کی نوک پر گراکر خود اقتدار کے مزے لوٹنے کی توبہ، اپنی انا کے لیے عوامی مینڈیٹ کی توہین اور پورے پورے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کا اعتراف، ایک مربوط حکمت عملی کے تحت نوے ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے اور محب وطن پاکستانیوں پر مشتمل آدھا ملک گنوانے کی غلطی کا اعتراف، ملک کے نظریاتی تشخص کو پامال کرنے کے گناہ کا اعتراف، صرف اپنے ادارے کو مضبوط اور باقی پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا اعتراف، ملک میں جگہ جگہ املاک بنانے، زمینوں پر قبضہ کرکے رئیل اسٹیٹ کا منافع بخش کاروبار کھڑا کرنے کا اعتراف، ریاستی اداروں میں عمل دخل کے ذریعے ہرجگہ اپنی مرضی چلانے سے توبہ، اور سب سے بڑھ کر خدا کی طرف سے عطا کردہ پاکستان کی آزاد مملکت کے تحفے اور امانت میں خیانت کا گناہ۔
میں: مگر توبہ کا معاملہ تو اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اس پر احساس ندامت ہو؟
وہ: یقینا ملک کو اس نہج پر لانے کی ذمے دار اسٹیبشلمنٹ ہے، اور اس کام اس نے ریاستی اداروں اور سیاست دانوں کو بدعنوانی، چور بازاری اور بے ایمانی کا رستہ دکھا کر ملک وقوم کے بجائے صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کو اپنے سارے گناہوں، غلطیوں، بداعمالیوں سے توبہ کرکے ان غلطیوں کو درست کرنا ہوگا۔ سسٹم میں موجود بے ایمانوں، بدعنوانوں اور ان کے سرپرستوں کو گریبان سے پکڑکر عدالت کے کٹہرے میں لانا ہوگا، قومی دولت لوٹنے والوں کو پلی بارگین کا محفوظ راستہ دکھانے کے بجائے سخت ترین سزائیں دے کر نشان ِ عبرت بنانا ہوگا، ہر ریاستی، بلدیاتی ادارے، پولیس تھانہ کچہری میں رشوت اور بے ایمانی کا دھندا ختم کرکے عام کو ریلیف دینا ہوگا۔ اب یہ بات پوری قوم کے سامنے واضح اور سورج کی روشنی کی طرح بالکل عیاں ہوچکی ہے کہ اس ملک کے اصل والی وارث صرف آپ ہیں، یہ وزیراعظم، صدر وغیرہ نام کے کردار آپ کے پے رول پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کام کو اپنی اولادوں کے سپرد کرنے کی ساری تیاری مکمل کرچکے ہیں۔
اب فیصلہ صرف اور صرف آپ کو کرنا ہے کہ بے ایمانی کے اصولوں پر قائم یہ بدبودار نظام ان بد کرداروں کے باہمی تعاون سے اسی طرح چلاتے رہناہے یا آپ اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اگلے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ تائب ہونے کو تیار ہیں۔ ملک اور قوم کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بے ایمان اور بدعنوانوں کی جگہ ایمان دار، بااصول اور خوفِ آخرت رکھنے والوں کو عزت دینے پر آمادہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر خدا کی بے آواز لاٹھی کے لیے تیار رہیں، تب نہ بوٹوں کی دھمک کچھ کرپائے گی نہ نوٹوں کی چمک۔ ویسے یاد آیا رمضان کا مہینہ ہے، شیطان بھی بند ہے، رحمت، مغفرت اور دوزخ کی آگ سے بچنے کے دروازے پاٹوں پاٹ کھلیںہیں، توبہ کرلیں، میرے خیال سے توکام بن جائے گا، اللہ میاں کے ساتھ ساتھ شاید قوم بھی آپ کو معاف کرہی دے ۔۔۔کیا خیال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا اعتراف بے ایمانی کی توبہ ملک کے کے لیے قوم کے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔