Jasarat News:
2026-07-24@00:46:52 GMT

توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: آج تم یہ توبہ اور تائب ہونے کے مشورے کسے دینا چاہ رہے ہو، تمہاری بات کوئی سنے گا بھی یا ہمیشہ کی طرح بس ہم دونوں ہی اپنے دل کے پھپھولوں کو پھوڑتے رہیں گے۔

وہ: ملک کے موجودہ حالات سیاسی، معاشی اور سماجی تمام ہی حوالوں سے بہت تیزی سے ابتر سے ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملکی سیاست توکئی عشروں سے اسی طرح بیساکھیوں پر کھڑی ہے جو جمہوریت اور عدم جمہوریت ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک اشارے پر گھٹنے کے بل گرتی اور پھر انہیں بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہوتی رہی ہے۔ اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت سیاسی نظام کی مضبوطی کے بغیر مستحکم نہیں ہوسکتی۔ ریاست کے ان دونوں اداروں کی مسلسل بدحالی، ناکامی اور کمزوری کے نتائج لامحالہ ہمارے سماجی ڈھانچوں کی شکست وریخت پر مرتب ہونا ایک فطری امر تھا۔ لہٰذا آج ہم ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جہاں عزت، نیک نامی اور کامیابی کا حصول صرف اور صرف رشوت اوربے ایمانی کے رستے ہی سے ممکن ہے۔

میں: تو اس سارے معاملے میں ہماری اسٹیبلشمنٹ کا کیا لینا دینا ہے؟

وہ: صرف لینا دینا ہی نہیں سارا کیا دھرا اسی کا ہے، جس کا آغاز قیام پاکستان کے چند ہی سال بعد ہوگیا تھا، ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنے زیر اثر لانے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو بلیک میلنگ اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے زیر دام لانے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا اور گاہے گاہے اپنی مرضی کی سیاسی جماعتوں کے قیام کا عمل بھی مستقل بنیادوں پر بدستور چلتا رہا۔ ملک کی دوبڑی نام نہاد جمہوری و سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، ج، ف، ق، گ سب ہی نے آمریت کی کوکھ سے جنم لیا۔ پاکستان کے ایک روزنامے سے وابستہ ایک مرحوم صحافی کے بقول بھٹو صاحب کی پارٹی کے پیچھے جنرل ایوب خان کی آشیرباد تھی اور جنرل ضیا کے دور میں نواز شریف کی مسلم لیگ کا قیام جنرل جیلانی کے طفیل عمل میں آیا۔ دونوں بڑے صوبوں میں زبان اور قومیت کے تعصب کی بنیاد پر بنائی گئی ان دونوں پارٹیوں نے پاکستان کی مسلم شناخت اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کو فراموش کرانے میں اپنا کردار بخوبی نبھایا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے دونوں جماعتوں کو باری باری اقتدار کا لالی پاپ تھما کر اپنا الو ہمیشہ سیدھا رکھا۔ جس نے جب ذرا منہ زوری کی کوشش کی تو بیساکھی کھینچ کر ہاتھ کے ہاتھ سبق سکھادیا۔ جب دونوں منہ زور ہوئے تو تیسرے کو لاکھڑا کیا اور تیسرا خلاف توقع ہٹ دھرمی پہ اُتر آیا تو پرانے چاولوں کو گرتی ہوئی معیشت اور آمری جمہوریت کو بچانے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے پر بآسانی آمادہ کرلیا گیا۔ مگر یہ سارا معاملہ تشویشناک اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا اور دیگر باخبر ذرائع کے ذریعے ملک کے عام آدمی کو بھی برسوں سے جاری اس کھیل کے تمام دائوپیچ سے مکمل آگاہی حاصل ہوگئی تو اعلان کرنے والوں کو مجبوراً گزشتہ دو تین سال کے دوران میڈیا کے سامنے قوم کو کئی بار یہ باور کرانا پڑا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا آمری جمہوریت کا یہ زیر نظر ماڈل اسی تسلسل سے آگے بڑھ رہا ہے اور جہاں تک معیشت کی بات ہے تو بقول غالبؔ قرض کی مے پینے کا عمل حسب ِ سابق زوروں پر ہے اور معاشی بدحالی کا اندازہ اس سال اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ زکواۃ کے نصاب سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جو نصاب ۲۰۲۴ء میں ایک لاکھ پینتیس ہزار اور ۲۰۲۵ء میں ایک لاکھ اُناسی ہزار کے لگ بھگ تھا وہ ۲۰۲۶ء کے آتے آتے محض ایک سال کے عرصے میں پانچ لاکھ کی خطیر رقم سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔

میں: ابھی بھی ہم دل کے پھپھولے ہی پھوڑ رہے ہیں، کیا تمہارے پاس اس تمام صورت حال سے نکلنے اور ملک کو صحیح ڈگر پر ڈالنے کے لیے کوئی حل یا ترکیب ہے؟

وہ: بالکل ہے، سب سے پہلے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غلطیوں اور گناہوں پر توبہ کرنا ہوگی، نظریہ ضرورت اور قوم کے وسیع تر مفاد میں باربار آئین توڑنے کی توبہ، عدالتوں پر بزور ِ طاقت اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کرانے کی توبہ، ہر دور میں خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے سیاست دانوں اور دوسرے اداروں کو نااہل اور بے ایمان قرار دینے کی توبہ، منتخب حکومتوں کو بندوق کی نوک پر گراکر خود اقتدار کے مزے لوٹنے کی توبہ، اپنی انا کے لیے عوامی مینڈیٹ کی توہین اور پورے پورے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کا اعتراف، ایک مربوط حکمت عملی کے تحت نوے ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے اور محب وطن پاکستانیوں پر مشتمل آدھا ملک گنوانے کی غلطی کا اعتراف، ملک کے نظریاتی تشخص کو پامال کرنے کے گناہ کا اعتراف، صرف اپنے ادارے کو مضبوط اور باقی پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا اعتراف، ملک میں جگہ جگہ املاک بنانے، زمینوں پر قبضہ کرکے رئیل اسٹیٹ کا منافع بخش کاروبار کھڑا کرنے کا اعتراف، ریاستی اداروں میں عمل دخل کے ذریعے ہرجگہ اپنی مرضی چلانے سے توبہ، اور سب سے بڑھ کر خدا کی طرف سے عطا کردہ پاکستان کی آزاد مملکت کے تحفے اور امانت میں خیانت کا گناہ۔

میں: مگر توبہ کا معاملہ تو اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اس پر احساس ندامت ہو؟

وہ: یقینا ملک کو اس نہج پر لانے کی ذمے دار اسٹیبشلمنٹ ہے، اور اس کام اس نے ریاستی اداروں اور سیاست دانوں کو بدعنوانی، چور بازاری اور بے ایمانی کا رستہ دکھا کر ملک وقوم کے بجائے صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کو اپنے سارے گناہوں، غلطیوں، بداعمالیوں سے توبہ کرکے ان غلطیوں کو درست کرنا ہوگا۔ سسٹم میں موجود بے ایمانوں، بدعنوانوں اور ان کے سرپرستوں کو گریبان سے پکڑکر عدالت کے کٹہرے میں لانا ہوگا، قومی دولت لوٹنے والوں کو پلی بارگین کا محفوظ راستہ دکھانے کے بجائے سخت ترین سزائیں دے کر نشان ِ عبرت بنانا ہوگا، ہر ریاستی، بلدیاتی ادارے، پولیس تھانہ کچہری میں رشوت اور بے ایمانی کا دھندا ختم کرکے عام کو ریلیف دینا ہوگا۔ اب یہ بات پوری قوم کے سامنے واضح اور سورج کی روشنی کی طرح بالکل عیاں ہوچکی ہے کہ اس ملک کے اصل والی وارث صرف آپ ہیں، یہ وزیراعظم، صدر وغیرہ نام کے کردار آپ کے پے رول پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کام کو اپنی اولادوں کے سپرد کرنے کی ساری تیاری مکمل کرچکے ہیں۔

اب فیصلہ صرف اور صرف آپ کو کرنا ہے کہ بے ایمانی کے اصولوں پر قائم یہ بدبودار نظام ان بد کرداروں کے باہمی تعاون سے اسی طرح چلاتے رہناہے یا آپ اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اگلے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ تائب ہونے کو تیار ہیں۔ ملک اور قوم کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بے ایمان اور بدعنوانوں کی جگہ ایمان دار، بااصول اور خوفِ آخرت رکھنے والوں کو عزت دینے پر آمادہ ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر خدا کی بے آواز لاٹھی کے لیے تیار رہیں، تب نہ بوٹوں کی دھمک کچھ کرپائے گی نہ نوٹوں کی چمک۔ ویسے یاد آیا رمضان کا مہینہ ہے، شیطان بھی بند ہے، رحمت، مغفرت اور دوزخ کی آگ سے بچنے کے دروازے پاٹوں پاٹ کھلیںہیں، توبہ کرلیں، میرے خیال سے توکام بن جائے گا، اللہ میاں کے ساتھ ساتھ شاید قوم بھی آپ کو معاف کرہی دے ۔۔۔کیا خیال ہے۔

شرَفِ عالم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا اعتراف بے ایمانی کی توبہ ملک کے کے لیے قوم کے

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک