عمران خان کو دوسرا انجکشن لگانے کیلیے اسپتال منتقل کیا جائیگا ، طارق فضل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-08-8
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں دوسرا انجکشن لگانے کے لیے 25 فروری کو دوبارہ اسپتال لایا جائے گا۔طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ یہ انجکشن مخصوص طبی سہولت میں ہی لگائے جا سکتے ہیں، اس لیے انہیں عارضی طور پر اسپتال منتقل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو 25 جنوری کو پہلا انجکشن لگایا گیا تھا، جبکہ دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگانے کی مجوزہ تاریخ مقرر ہے۔ تیسرا انجکشن دوسرے انجکشن کے ایک ماہ بعد لگایا جائے گا۔ڈاکٹر طارق فضل نے وضاحت کی کہ آنکھ کے اس مخصوص علاج کے لیے دیے جانے والے انجکشن عام طبی مرکز میں نہیں لگ سکتے بلکہ اسپتال میں لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عمران خان کو انجکشن کی غرض سے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اسپتال منتقلی صرف انجکشن لگانے تک محدود ہو گی اور طبی عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ منتقل کر دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپتال منتقل عمران خان کو جائے گا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔