شمالی وزیرستان: چھوٹی بچی کی کرکٹ ویڈیو بنانے پر صحافی اغوا، عوام کا خوارج کیخلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں چھوٹی کمسن بچی آئینہ وزیر کی کرکٹ کھیلنے کی ویڈیو بنانے کے الزام میں مقامی صحافی زعفران وزیر کو خوارج نے اغوا کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق زعفران وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے آئینہ وزیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جسے خوارج نے ‘فحاشی’ اور ‘بے حیائی’ کو فروغ دینے کے مترادف قرار دیا۔ ویڈیو چند روز قبل وائرل ہوئی تھی اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسے بھرپور پذیرائی بھی ملی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: آئینہ وزیر کی وائرل ویڈیو بنانے والے زعفران وزیر اغوا کے بعد رہا، علاقے میں پرتپاک استقبال
ماہرین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ خوارج عناصر اسلام کی من پسند اور خود ساختہ تشریح کے ذریعے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں، اور خواتین و بچوں کے حقوق، تعلیم، کھیل اور ترقی کے مواقع محدود کر کے انہیں معاشرتی سرگرمیوں سے دور رکھتے ہیں۔
یہ خوارجی معصوم بچوں کی سرگرمیوں کو بھی اپنے تنگ نظر نظریات کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔
مقامی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ خوارج عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے اور علاقے کو ان کے ناپاک اثرات سے پاک کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک