کشمیر اسمبلی میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد پولیس ویریفکیشن کا مسئلہ گونج اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سجاد لون نے بارہمولہ ضلع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کو حیدرآباد میں دو لاکھ روپے ماہانہ کی نوکری ملی تھی مگر اسکے چچا پر مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکر ہونے کے الزام کی بنیاد پر اسے کلیئرنس نہیں دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں 2024ء کے بعد جمہوری حکومت کے قیام کے بعد پولیس ویریفکیشن کا معاملہ لگاتار قانون ساز اسمبلی میں شدت سے اٹھایا گیا جہاں مختلف جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی نے سخت ویریفکیشن پالیسی کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر جانے سے تعبیر کیا- جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پولیس ویریفکیشن کے نظام پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاندان کے ایک فرد سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس کے اثرات پورے خاندان کے سینکڑوں نوجوانوں پر ڈالے جا رہے ہیں اور انہیں پولیس کلیئرنس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ سجاد لون نے بارہمولہ ضلع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کو حیدرآباد میں دو لاکھ روپے ماہانہ کی نوکری ملی تھی مگر اس کے چچا پر مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکر ہونے کے الزام کی بنیاد پر اسے کلیئرنس نہیں دی گئی۔
سجاد لون کے مطابق حقیقت یہ تھی کہ مذکورہ چچا خود ایک اوور گراؤنڈ ملی ٹینٹ کے ہاتھوں مارا جا چکا تھااس کے باوجود درخواست مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں ایسے نوجوانوں کو سزا دی جا رہی ہے جو اُس فرد کی موت کے بعد پیدا ہوئے جس کے سبب ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، کیا وہ بھارتی نہیں ہیں۔ اب وہ کیا کریں۔ سجاد لون نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میڈیکل گریجویٹس بھی اس پالیسی کی زد میں آ رہے ہیں اور برسوں کی تعلیم کے باوجود پریکٹس کرنے سے محروم ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو دہلی میں مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھائیں۔
2024ء کے اسمبلی اجلاس میں بھی کانگریس کے چیف وہپ اور بانڈی پورہ سے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ نے بھی پولیس ویریفکیشن پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد کا نام کسی منفی سرگرمی سے جوڑا جائے تو اس کے رشتہ داروں کو بھی پولیس کلیئرنس سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صابیہ مشتاق نامی ایک یتیم لڑکی کو دو مرتبہ لیکچرر کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا۔ مگر اس کے کمسن بھائی کے خلاف ماضی میں درج ایک پتھراؤ کیس کی بنیاد پر، جس میں بعد میں عدالت نے بری کر دیا اسے ملازمت سے محروم رکھا گیا۔ نظام الدین بٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ صحافی سجاد گل کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند کیا گیا تھا اور ان کے بھائی کو بھی منتخب ہونے کے باوجود روزگار نہیں دیا گیا۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرا نے کہا کہ ویریفکیشن کے نام پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے جس سے نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ وحید پرا نے مقدمات کو دوبارہ کھول کر پاسپورٹ اور ملازمتوں میں رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی حبہ کدل سے رکن اسمبلی شمیمہ فردوس نے کہا کہ اسمبلی میں اٹھایا گیا یہ معاملہ حقیقی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ملازمتوں اور پاسپورٹ کے لیے ویریفکیشن کی جاتی ہے مگر اگر کسی رشتہ دار کا کسی کیس میں نام ہو تو دوسرے فرد کو اس کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے۔ وہیں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے سجاد غنی لون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ویریفکیشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی اسمبلی میں سجاد لون نہیں دی رہا ہے لون نے کے بعد
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ