روس کے علاقے ارکتسک میں واقع جھیل بائیکال کی منجمد سطح پر چلتی ایک سیاحتی بس برف ٹوٹنے سے پانی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق بس میں چینی سیاح سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ہری پور: باراتیوں سے بھری بس حادثہ کا شکار، کمسن بچی سمیت 5 خواتین جاں بحق

ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے بتایا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس جمعہ کے روز جمی ہوئی جھیل کو عبور کر رہی تھی۔ اچانک برف میں تقریباً تین میٹر چوڑا شگاف پڑ گیا اور گاڑی 18 میٹر گہرے پانی میں ڈوب گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں سات چینی سیاح اور بس ڈرائیور شامل ہیں، جبکہ ایک سیاح معجزانہ طور پر بس سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے مطابق امدادی ٹیموں نے ابتدائی طور پر زیرِ آب کیمرے استعمال کیے، جس کے بعد غوطہ خوروں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کے لیے فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

علاقائی پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ٹور ایک غیر رجسٹرڈ آپریٹر کی جانب سے چلایا جا رہا تھا، جس کے باعث حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

جھیل بائیکال دنیا کی سب سے گہری میٹھے پانی کی جھیل اور روس کا اہم سیاحتی مرکز ہے۔ حالیہ برسوں میں روس اور چین کے درمیان ویزا فری معاہدے کے بعد چینی سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کر رہی ہے۔

حادثے کے بعد مقامی حکام نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ منجمد جھیلوں پر سفر کے دوران سرکاری ہدایات اور منظور شدہ ٹور آپریٹرز کا انتخاب یقینی بنائیں، تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بس حادثہ جھیل بائیکال چینی سیاح روس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چینی سیاح چینی سیاح

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق