ہراسانی کے الزامات پر تنازع، اداکارہ ہانیہ عامر کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جاری حالیہ تنازع پر معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنا واضح مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد اداکارہ نے کہا ہے کہ وہ ہراسانی اور استحصال جیسے معاملات پر کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کی قائل نہیں اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے اداکارہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے پروڈیوسر کی قریبی دوست ہیں جن پر ہراسانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض ماڈلز اور اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پر مبینہ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے انسٹاگرام کے ذریعے وضاحت کی کہ انہیں اس معاملے کی پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اس میں کسی طور شامل رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے وقار اور تحفظ کو متاثر کرنے والا کوئی بھی رویہ ناقابلِ قبول ہے اور ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
اداکارہ نے ان خواتین کے حق میں بھی آواز بلند کی جنہوں نے مبینہ طور پر شکایات سامنے لائیں اور کہا کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں محفوظ ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ خدشات کے پیش نظر انہوں نے متعلقہ فرد سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی سماجی یا پیشہ ورانہ وابستگی کو کسی دوسرے شخص کے عمل کی حمایت نہ سمجھا جائے۔
اپنے بیان میں انہوں نے احتساب، باہمی احترام اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نقصان دہ رویوں کے خلاف کھڑے ہوں اور متاثرہ افراد کی حمایت کریں۔
سوشل میڈیا پر اداکارہ کے اس بیان کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ بڑی تعداد میں مداحوں نے ہراسانی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں مزید کھل کر اور نام لے کر بات کرنی چاہیے تھی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔