غزہ میں کسی صورت پاکستان کی فوج کو نہیں بھیجنا چاہئے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فارم 47 پر جنہیں آپ لاتے ہیں وہ انہیں ووٹ بھی نہیں ملتے اور ان میں کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، آپ کا ہائبرڈ نظام فیل ہوچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شریف اور زرداری خاندان پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور یہ سب ملکر پاکستان کا بیڑا غرق کررہے ہیں، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت ناقابل قبول ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فارم 47 پر جنہیں آپ لاتے ہیں وہ انہیں ووٹ بھی نہیں ملتے اور ان میں کچھ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، آپ کا ہائبرڈ نظام فیل ہوچکا ہے۔ حافظ نعیم نے کہا ہے کہ صرف 10 ارب میں پی آئی اے جیسا ادارہ فروخت کردیا گیا لیکن وزیراعلیٰ صاحبہ کا نیا طیارہ 11 ارب میں خریدا گیا ہے۔ پاکستان اشتہاروں میں بہت ترقی کررہا ہے لیکن گزشتہ 6 برس میں 31.
حافظ نعیم نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر پارلیمنٹ سے مشورہ لیا گیا نہ ہی کابینہ میں بات ہوئی۔ پیس بورڈ میں غزہ کی تباہی کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا گیا۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر فارم 47 والی پارلیمنٹ کو بھی گھاس نہیں ڈالی اور خود ہی فیصلہ کرلیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ میں کسی صورت پاکستان کی فوج کو نہیں بھیجنا چاہئے، ٹرمپ بار بار یہ بات کرتا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کریں گے، تو جب ہماری افواج کو امریکا کی کمانڈ میں دیا جائے گا تو کیا وہ وہاں احتجاج کریں گے؟، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت ناقابل قبول ہے جس کیخلاف ہم 25 کروڑ عوام کو ساتھ ملاکر مزاحمت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا پاکستان کی نے کہا کہ بھی نہیں
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔