سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، پیپلز پارٹی پاکستان کی وحدت کے خلاف کبھی نہیں جائیگی، یہ آپ ہیں جو پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، یہ سندھ کو توڑنے کی سوچ، خواب اور خیال بھی ہے تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے بیانات کی مذمت کرتا ہوں۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو بنانے والا صوبہ سندھ تھا اور اسی شہر میں سندھ اسمبلی تھی، پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی مہم چلائی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، کئی بار پہلے بھی ہو چکا ہے، 1994ء میں بھی سندھ اسمبلی نے اسی خطوط پر قرارداد پاس کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1948ء میں جب کراچی کو پاکستان کا دارالخلافہ بنایا گیا تو کوئی آئین نہیں تھا، ملک میں آئین ہوتا تو وہ فیصلہ نہیں ہوتا، ایسی کوئی بات ہوئی تو اسمبلی کی دو تہائی اکثریت نے فیصلہ کرنا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے اس قرارداد میں سندھ کی وحدت کی بات کی ہے، کراچی کی صورتحال پر بات ہوسکتی ہے، اس قرارداد کی مخالفت کا مطلب سندھ کو توڑنے کی حمایت کرنا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہاکہ قرارداد میں کسی پارٹی یا شخص پر حملہ نہیں کیا گیا، سارے ممبران قرارداد کو پڑھیں، اگر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں، اگر کوئی اعتراض نہیں ہے تو قرارداد کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا، اس کے بعد بھی کئی عرصے تک سندھ آزاد رہا، پھر سندھ کو ممبئی پریزیڈنسی کے تحت کر دیا گیا، سندھ کے لوگوں نے جدوجہد کر کے اس سے علیحدگی حاصل کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، پیپلز پارٹی پاکستان کی وحدت کے خلاف کبھی نہیں جائیگی، یہ آپ ہیں جو پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، یہ سندھ کو توڑنے کی سوچ، خواب اور خیال بھی ہے تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کہا وزیراعلی سندھ سندھ کو توڑنے سندھ اسمبلی کو توڑنے کی نے کہا کہ کی وحدت

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا