اسٹیٹ بینک کے برطرف ملازمین مستقل بحال: سندھ ہائی کورٹ کی ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کے برطرف کیئے گئے ملازم کو مستقل طور پر بحال کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ ٹھیکیداری نظام کے تحت مستقل فرائض انجام دینے والے مزدورں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ بھی فوجی فررٹلائز کے خلاف ایک کیس میں سنا چکی ہے لہذا اسٹیٹ بینک کی اپیل خارج کرتے ہوئے این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
عدالتی فیصلہ آنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کے سیکریٹری جنرل لیاقت ساہی خوشی کا اظہار کیا اور فیصلے کو مزدوروں کی فتح قرار دیا۔
ڈیموکریٹک ورکرز یونین ( سی بی اے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کے سیکریٹری جنرل لیا قت علی ساہی نے ورکرز سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذولفقار علی سانگی پر مشتمل آئینی بینچ کا فیصلہ بنیادی طور پر ورکرز کی بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے اس پر ہم بالخصوص اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کے تمام تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ورکرز اور کنٹریکٹ ورکرز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں عدالت نے حافظ رئیس کے این آئی آر سی کے مستقلی کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کی آئینی درخواستیں خارج کرکے کروڑوں محنت کشوں کے بنیادی حقوق کو اُجاگر کیا ہے اس پرہم اللہ کا شکر اداکرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں جہاں بھی مستقل پوسٹوں پر کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر محنت کشوں کی بھرتیاں کی گئیں ہیں وہ 90 دن ملازمت مکمل کرنے کے بعد اسٹینڈنگ ایمپلائمنٹ آرڈر1968 کے تحت مستقل تصور کئے جاتے ہیں حافظ رائیس ڈسپنسر تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ہیڈ آفس میں میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں ڈسپنر کی حیثیت سے ملازمت پر رکھا گیا تھا لیکن بغیر کسی وجہ کہ اسے برطرف کیا گیا تھا جس کے خلاف این آئی آر سی کراچی میں اس نے چیلنج کیا تھا این آئی آر سی کی عدالت نے اسے تمام واجبات اور الاؤنسز کے ساتھ مستقل کرنے کے آرڈر کئے تھے جس کے خلاف ایس بی پی اور بی ایس سی فل بینچ میں گئی ان کی پٹیشن عدالت نے خارج کی اس کے بعد انتظامیہ نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن داخل کی تھیں جو آج جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذولفقار علی سانگی پر مشتمل آئینی بینچ نے خارج کر کے حافظ رئیس کے حق میں این آئی آر سی سنگل بینچ اور فل بینچ کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے بنیادی طور پر یہ فیصلہ ملک بھر کے تھرڈپارٹی کنٹریکٹ اور کنٹریکٹ ورکرز کی بہت بڑی فتح ہے جس پر ہم معززعدالت کے فیصلے کو سراہتے ہیں اس کی روشنی میں ملک بھر کے محنت کشوں کو منظم و متحد ہو کر اپنے آئینی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔