ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔
سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔
منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔
وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔
دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔
دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔
مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟
اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔
لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔
ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟
لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔
براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔
ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔
اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔
پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔
دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔
دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔
کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔
کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مہمان نوازی تحصیل دار میں ایک کے ساتھ کے پاس کے لیے دار کے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔