Express News:
2026-07-24@02:44:20 GMT

ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔

سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔

منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔

وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔

دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔

دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔

مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟

اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔

لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔

ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟

لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔

براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔

ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔

اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔

پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔

دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔

دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔ 

کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔

کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہمان نوازی تحصیل دار میں ایک کے ساتھ کے پاس کے لیے دار کے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف