پیپلز پارٹی کے یو سی چیئرمین کے دفتر کے سامنے مین ہول میں بچہ گرگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ُپاکستان پیپلز پارٹی کے یو سی چیئرمین کے دفتر کے سامنے کھلے مین ہول میں بچہ گرگیا ! ویڈیو وائرل ،اورنگی ٹاؤن رحمت چوک میں ایک معصوم بچہ پیپلز پارٹی کے مقامی یو سی چیئرمین کے دفتر کے سامنے کھلے مین ہول میں جا گرا جس کی ویڈیو سی سی ٹی وی میں محفوظ کرلی گئی ہے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ خوش قسمتی سے بچے کو فوری طور پر محفوظ نکال لیا گیا ہے اور کوئی بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھیلتے ہوئے بچہ اچانک مین ہول میں گر گیا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور فوری طور پر شور مچایا۔ اس کے ساتھی بچے نے فوری ردعمل دکھایا اور اسے مین ہول سے باہر نکالنے میں مدد کی۔ شور سن کر علاقے کے مکین بھی فوراً موقع پر پہنچے اور بچے کی جان بچنے پر راحت کا سانس لیا۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مین ہول پیپلز پارٹی کے یو سی چیئرمین کے دفتر کے بالکل سامنے موجود ہے اور رحمت چوک سے علی گڑھ تک کھلے نالوں اور مین ہولز کی ابتر صورتحال برقرار ہے جو کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔علاقہ مکینوں نے شکایت کی کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مرمت کے لیے متعدد درخواستیں دی گئی ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ جب یو سی چیئرمین سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ درخواستیں میئر کراچی کو بھیج دی گئی ہیں۔مقامی شہریوں نے میئر کراچی اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس خطرناک کھلے مین ہول اور غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے اور مرمت کے اقدامات جلد مکمل کیے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بچے یا شہری کو جان کا نقصان نہ پہنچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو سی چیئرمین کے دفتر کے پیپلز پارٹی کے مین ہول میں
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔