حکومتی ریلیف فنڈز کا آزاد اور شفاف آڈٹ کیا جائے،یونس دانش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-4-14
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش نے ملک میں غربت کی تشویشناک صورتحال، حکومتی ریلیف پیکیجز اور امدادی رقوم کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اصل مستحقین تک امداد کی منصفانہ اور شفاف فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی اداروں بالخصوص World Bank کی رپورٹس کے مطابق ملک میں غربت کی شرح میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ قومی سطح پر بھی معاشی دباؤ، مہنگائی اور بیروزگاری نے متوسط اور نچلے طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ تقریباً 28 ارب روپے سے 21 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان تقریباً 13 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ مزید 10 ارب روپے اضافی وظیفہ کے طور پر تقریباًایک کروڑ مستحق خاندانوں کو دیے جائیں گے۔ حکومتی دعوے کے مطابق ان اقدامات سے مجموعی طور پر 6 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا معلوم ہوتے ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقوم واقعی حقدار افراد تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔اسی طرح Benazir Income Support Programme کے تحت مستحق خاندانوں کو مالی معاونت میں اضافہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم اس پروگرام میں بھی رجسٹریشن، ڈیٹا اپڈیٹ اور اہلیت کے معیار کے حوالے سے کئی عملی مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔دیہی علاقوں میں کئی مستحق خاندان ڈیٹا کی عدم درستگی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر فہرستوں سے باہر رہ جاتے ہیں، جبکہ بعض غیر مستحق افراد نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں مختلف ریلیف پروگراموں میں شفافیت کا فقدان، سیاسی اثر و رسوخ، سفارش اور بدعنوانی جیسے عوامل سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث اصل حقدار طبقہ محروم رہ جاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف فنڈز کا آزاد اور شفاف آڈٹ کیا جائے، مستحقین کی فہرستیں عوامی سطح پر شائع کی جائیں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنایا جائے، اور شکایات کے ازالے کا موثر اور فوری نظام قائم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔