افغان طالبان رجیم میں بچے شدید غذائی قلت کاشکار، افغان رجیم اپنی ہی تباہ کن پالیسیوں کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کابل (نیوز ڈیسک) افغان طالبان رجیم میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ افغان رجیم اپنی ہی تباہ کن پالیسیوں کے نتائج بھگت رہی ہے۔ طالبان حکومت معاشی، انسانی اور انتظامی بحران حل کرنے کے بجائے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ذریعے غاصبانہ اقتدار مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔ جابرانہ پالیسیوں اور انتہاپسندانہ اقدامات نے افغانستان کو معاشی کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے جہاں عوام بھوک اور بے بسی کا شکار ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غذائی قلت کے شکار 40 لاکھ بچوں میں سے بیشتر فنڈز کی کمی کے باعث امداد سے محروم رہ گئے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں بچوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں اور فنڈز کی کمی کے باعث تقریباً 17.
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سفاکیت اور بے حسی نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھی اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ طالبان رجیم کی جانب سے ملکی وسائل کی خوردبرد کے نتیجے میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شدید غذائی قلت کا طالبان رجیم کا شکار
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔