سرحد پار دہشت گردی ناقابل برداشت، محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاکستان نے افغانستان میں سرحدی دہشتگردی میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف ہدفی فضائی کارروائی کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ افغان قومی افواج کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان میں سرحد پار حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
کارروائی کے دوران پکتیکا، خوست اور ننگرہار میں 3 مخصوص مقامات پر اہداف کیخلاف فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد مخصوص دہشتگرد تھے اور نتائج فیصلہ کن رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا
اس کارروائی میں 70 سے زائد فتنہ الخوارج شدت پسند ہلاک ہوئے اور متعدد درمیانی سطح کے کمانڈرز بھی ہلاک کیے گئے، جس سے آپریشن کی واضح فتح حاصل ہوئی۔
پاکستان نے کہا ہے کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور حالانکہ دہشت گردوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، پاک فضائیہ کے حملے تیر بہ ہدف اور کنٹرولڈ رہے، ننگرہار پولیس کے نقصان کے حوالے سے دعوے جھوٹ پر مبنی اور ہم آہنگ پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔
پاک فوج نے واضح کیا کہ افغان حکومت یا کسی ریاستی اثاثے کو ہدف نہیں بنایا گیا اور کسی بھی دشمنانہ ردعمل یا کشیدگی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے اس سے قبل افغان حکام کے ساتھ قابل عمل انٹیلیجنس بھی شیئر کی ہے، لیکن غیر فعال رویے کی وجہ سے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کرنا پڑی۔
اس حالیہ کارروائی کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے متعلقہ پروپیگنڈہ اکاؤنٹس خاموش ہیں، کیونکہ ان کے درمیانی کمانڈ ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حملہ شدہ علاقوں میں رابطہ منقطع اور سگنل جیم کرنے کے اقدامات سے شدت پسندوں کے نقصانات چھپانے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان، بنوں حملے کے تانے بانے بھی کابل سے جا ملے
پاک فوج نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی اور ڈیورنڈ لائن کے پار موجود محفوظ ٹھکانے ختم کیے جائیں گے۔
پاکستان نے زور دیا کہ وہ افغان علاقے سے پیدا ہونے والے کسی بھی خطرے کے خلاف کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان اکاؤنٹس انٹیلیجنس پاک فضائیہ پاکستان ٹی ٹی پی خودمختاری دہشتگرد دہشتگردی ڈیورنڈ لائن سرحد پار فتنہ الخوارج کمانڈرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان اکاؤنٹس انٹیلیجنس پاک فضائیہ پاکستان ٹی ٹی پی خودمختاری دہشتگرد دہشتگردی ڈیورنڈ لائن سرحد پار فتنہ الخوارج پاکستان نے بنایا گیا سرحد پار
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔