برمنگھم: چاقو حملے میں 18 سالہ برٹش پاکستانی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برمنگھم میں چاقو زنی کے افسوسناک واقعے میں 18 سالہ برٹش پاکستانی نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ دو دیگر نوجوان زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شب اس وقت پیش آیا جب علاقے کی ایک مسجد میں نمازِ تراویح ادا کی جا رہی تھی۔ حملہ اولڈبری کی جامع مسجد میں گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ پر ہوا جہاں اچانک چاقو کے وار سے تین نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم 18 سالہ نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ دیگر دو زخمیوں، جن کی عمریں 19 اور 22 سال بتائی جا رہی ہیں، کو علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ مقامی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک