ناسا کا چاند پر بھیجے جانے والا تاریخی انسان بردار مشن ایک بار پھر التوا کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی خلائی ادارے ناسا کو چاند پر انسانوں کی واپسی کے منصوبے میں ایک مرتبہ پھر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ادارے نے آرٹیمس 2 مشن کو دوبارہ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس مشن کے تحت چار خلا بازوں کو تقریباً پانچ دہائیوں بعد چاند کے مدار میں بھیجنا تھا۔ ابتدا میں اس کے لیے 8 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے مارچ تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب تازہ فیصلے کے مطابق مشن کو ایک بار پھر آگے بڑھا دیا گیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے اپریل میں روانہ کیا جا سکے گا۔
یاد رہے کہ فروری کے آغاز میں بھی یہ مشن راکٹ نظام کی آزمائش کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی خرابیوں کے باعث مؤخر کیا گیا تھا۔ تازہ بیان میں ناسا نے بتایا ہے کہ راکٹ کے نظام میں مزید مسائل کی نشاندہی ہوئی ہے، جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔
ادارے کے مطابق 6 مارچ کو روانگی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، مگر راکٹ کے بالائی حصے میں ہیلیم گیس کے بہاؤ میں خرابی سامنے آئی، جس کے باعث مشن کو مقررہ وقت پر بھیجنا ممکن نہ رہا۔ ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے کہا کہ نئی تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے مارچ میں آرٹیمس 2 کی روانگی ممکن نہیں رہی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آخری بار ناسا نے 1972 میں اپولو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا، اور اب پچاس برس سے زائد عرصے بعد دوبارہ خلا بازوں کو چاند کے قریب بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ملتان زون نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنادی۔
ایف آئی اے ملتان زون کے مطابق 2 خواتین کو آف لوڈ کرکے 2 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ مسافروں نے جعلی نکاح نامے پر سوازی لینڈ کے وزٹ ویزے حاصل کیے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ایجنٹ نے مسافروں کی غیرقانونی امیگریشن کیلیے رشوت دینے کی کوشش بھی کی۔