data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-7
قوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے، بلکہ وہ حکمرانی کے مزاج، ترجیحات اور اخلاقی سمت کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ غلطی انسان سے بھی ہو سکتی ہے اور حکومتوں سے بھی؛ مگر جب اس غلطی پر دلیلوں کا ایسا جال بْنا جائے جس میں سچائی دم توڑ دے، اور عوامی اعتماد کو للکارا جائے، تو پھر وہی کیفیت جنم لیتی ہے جسے حکیمانہ انداز میں کہا گیا: عذرِ گناہ بدتر از گناہ۔ یعنی گناہ سے بھی بدتر اس گناہ کا بہانہ ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایک شاہانہ بزنس جیٹ کی خریداری نے اسی نوعیت کی ایک بحث کو جنم دیا ہے، جو گہرے سوالات اُٹھاتا ہے۔ سرکاری مؤقف میں یہ بتایا گیا کہ یہ طیارہ مجوزہ ’’ائر پنجاب‘‘ منصوبے کے فلیٹ کا حصہ ہے، اور آئندہ صوبائی ائر لائن کے قیام کے لیے مختلف جہاز خریدے یا لیز پر لیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ مؤقف انتظامی نوعیت کا ہے، مگر جب اس کی تہہ میں جھانکا جائے تو کئی سوالات سر اٹھاتے ہیں۔ کیا یہ واقعی ایک منصوبہ ہے، یا محض ایک ایسا بیانیہ ہے جس کے پیچھے حکمران طبقے کی اپنی سہولتوں کا جذبہ کارفرما ہے؟ جس طیارے کا ذکر ہو رہا ہے، وہ دنیا بھر میں کارپوریٹ اور ریاستی اشرافیہ کے زیر ِ استعمال ایک جدید ترین بزنس جیٹ ہے۔ Gulfstream G500 کو عام طور پر بڑی کارپوریشنوں کے سربراہان، عالمی سرمایہ کار، یا ریاستی سربراہان اور وی وی آئی پیز استعمال کرتے ہیں۔ یہ تقریباً 15 سے 19 مسافروں کی گنجائش رکھنے والا طیارہ ہے، جس میں: لی فلیٹ نشستیں جو بستر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مکمل گیلے (کچن) کی سہولت۔ پرتعیش واش رومز اور جدید ترین سیٹلائٹ کمیونیکیشن۔ ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور ہزاروں میل کی نان اسٹاپ پرواز کی صلاحیت۔

یہ تمام خصوصیات اسے ایک ’’اُڑتا ہوا محل‘‘ بناتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عوامی ائر لائن اپنی بنیاد ایسے جہاز پر رکھتی ہے؟ دنیا کی بڑی کمرشل ائر لائنز؛ خواہ وہ خطے کی ہوں یا عالمی؛ اپنے بیڑے کا آغاز عموماً سنگل آئل یا وائیڈ باڈی طیاروں سے کرتی ہیں، جن میں 150 سے 300 تک مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ بزنس جیٹ کو فلیٹ کی بنیاد قرار دینا انتظامی منطق سے زیادہ سیاسی تاویل محسوس ہوتا ہے۔ اگر واقعی ’’ائر پنجاب‘‘ ایک سنجیدہ اور باقاعدہ منصوبہ ہے تو چند بنیادی سوالات عوام کے ذہن میں آنا فطری ہیں: کیا اس کا تفصیلی بزنس پلان تیار اور جاری کیا گیا ہے؟۔ کیا سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مکمل آپریٹنگ لائسنس حاصل ہو چکا ہے؟۔ کن روٹس پر پروازیں چلانے کا اعلان کیا گیا ہے اور ان کی طلب کا تعین کیا گیا ہے؟۔ بڑے مسافر بردار طیاروں کی خریداری یا لیز کے معاہدے کہاں ہیں؟۔ کیا صوبائی اسمبلی میں اس منصوبے پر تفصیلی بحث اور منظوری لی گئی؟

جب ان سوالات کے جوابات مبہم ہوں، اور اچانک ایک لگژری بزنس جیٹ خرید لیا جائے، تو شکوک و شبہات کا جنم لینا لازمی ہے۔ شفافیت جمہوریت کی بنیاد ہے؛ اگر فیصلہ درست بھی ہو تو وضاحت کے بغیر اعتماد قائم نہیں رہتا۔ خاص طور پر جب عوامی وسائل خرچ کیے جا رہے ہوں تو حکمرانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہر فیصلے کا جوابدہ ہوں۔ ایسے بزنس جیٹس کی آپریٹنگ لاگت عام طیاروں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ایندھن، مینٹیننس، عملے کی خصوصی تربیت، ہینگرنگ، انشورنس اور دیگر اخراجات مجموعی طور پر خطیر رقم کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر یہ طیارہ محض مختصر اندرونِ صوبہ پرواز بھی کرے تو لاکھوں روپے فی گھنٹہ خرچ ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔

یہاں اصل سوال ترجیحات کا ہے۔ کیا ایک ایسے صوبے میں جہاں سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی کمی کی شکایات عام ہوں، جہاں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہوں، اور بے روزگاری نوجوانوں کا مقدر بنتی جا رہی ہو، وہاں ایک شاہانہ سفری سہولت اولین ضرورت ہے؟ کوئی بھی حکومت اپنی ترجیحات کے تعین سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ حکمرانوں کے لیے تیز رفتار اور محفوظ سفر ضروری ہے۔ مگر کیا اس ضرورت کا واحد حل یہی لگژری ماڈل تھا؟ کیا چارٹر سروس یا محدود استعمال کے دیگر آپشنز زیر ِ غور آئے؟ کیا لاگت اور فائدے کا موازنہ عوام کے سامنے رکھا گیا؟ جب ان سوالوں کا جواب نہ ہو تو یہی کہا جائے گا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد سے زیادہ ذاتی آسائش کی خواہش کے تحت کیا گیا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک کے پاس ریاستی سربراہان کے لیے خصوصی طیارے ہوتے ہیں، مگر وہ عام طور پر قومی ائر لائن کے فلیٹ کا حصہ قرار نہیں دیے جاتے۔ ان کا مقصد واضح اور متعین ہوتا ہے: ریاستی پروٹوکول اور سرکاری دورے۔ ان طیاروں کی خریداری بھی عام طور پر پارلیمانی بحث اور منظوری کے بعد ہوتی ہے، اور ان کے اخراجات کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔ اگر یہ طیارہ بھی اسی نوعیت کا ہے، یعنی صوبائی قیادت کے سرکاری دوروں کے لیے ہے، تو صاف لفظوں میں تسلیم کر لیا جائے۔ عوام سچ سننے کے عادی ہو جائیں گے، بشرطیکہ انہیں سچ بتایا جائے۔ مگر جب اسے ’’عوامی ائر لائن‘‘ کے خواب کی پہلی اینٹ کہا جائے تو یہ بیانیہ کمزور دکھائی دیتا ہے اور عوام کی عقل کو چیلنج کرتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف جہاز نہیں، بلکہ طرزِ حکمرانی کا ہے۔ قومیں وسائل کی کمی سے نہیں، اعتماد کے فقدان سے کمزور ہوتی ہیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے وسائل ان کی فلاح کے بجائے اشرافیہ کی آسائش پر خرچ ہو رہے ہیں تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ فاصلے کبھی خلیج میں بدل جاتے ہیں اور کبھی بغاوت کو جنم دیتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ سیاست میں تاثر (Perception) بہت اہم ہوتا ہے۔ جب عام آدمی بجلی، گیس اور آٹے کے بلوں سے پریشان ہو، مہنگائی اس کے گھر کا چولھا جلانا مشکل کر رہی ہو، تو ایک لگژری جیٹ کی خبر اس کے ذہن میں تلخی پیدا کرتی ہے۔ چاہے حکومت کے پاس اس کے لیے کتنی ہی تکنیکی وضاحت کیوں نہ ہو، عوامی نفسیات اسے ’’شاہانہ خرچ‘‘ اور ’’استحقاق‘‘ کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ ’’ائر پنجاب‘‘ ابھی تصور کی سرزمین پر ہے، مگر اس کا سب سے پرتعیش اثاثہ پہلے ہی آسمان کی زینت بن گیا؟ کیا یہ ترتیب منطقی ہے؟ کیا یہ عوامی فہم کا امتحان نہیں؟ عام آدمی سوچتا ہے کہ پہلے منصوبے کی بنیاد رکھی جاتی ہے، پھر اس کی تعمیر ہوتی ہے، اور آخر میں اس کا استعمال شروع ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو استعمال شروع ہو گیا اور منصوبہ ابھی خواب ہی ہے۔

مرزا غالب کا شعر گویا حالات کی ترجمانی کرتا ہے: ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ؍ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا‘‘ عوام کو خواب دکھانا آسان ہے، مگر خوابوں کی تعبیر کے لیے شفافیت اور دیانت درکار ہوتی ہے۔ جب ایک خواب کو دوسرے خوابوں پر ترجیح دی جائے تو سوال اُٹھتا ہے کہ آخر یہ خواب کس کے لیے ہے؟ عوام کے لیے یا حکمرانوں کی سہولت کے لیے؟ ریاستی وسائل امانت ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی پیمانوں پر بھی پورا اترنا چاہیے۔ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں، حکمرانی کے اس اسلوب کا ہے جس میں وضاحت سے زیادہ تاویل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قومیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے حکمران سچ بولنے کا حوصلہ رکھتے ہوں چاہے وہ سچ وقتی طور پر کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ اقبال کا پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے: ’’نہیں تیری یہ کائنات کہ تو کرے مسخر اسے ؍ ترے سامنے آ گیا وہ زمانہ کہ تھا منتظر‘‘ ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ ’’ائر پنجاب‘‘ کا خواب کہیں محض ایک اور شاہانہ داستان نہ بن کر رہ جائے، اور عوام پھر یہی سوچتے رہ جائیں کہ آخر ان کے حصے کا آسمان کب روشن ہوگا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا گیا ہے بزنس جیٹ ائر لائن ہوتی ہے ہوتا ہے کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب