پاکستان کی ’بٹر فلائی لیڈی‘: شرین عبداللہ کی تتلیوں کو بچانے کے لیے 2 دہائیوں پر محیط جنگ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیا ہے، وہیں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو خاموشی سے قدرت کی خوبصورتی کو بچانے میں مصروف ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام شرین عبداللہ کا ہے، جنہیں ان کے کام کی وجہ سے ‘بٹر فلائی لیڈی’ بھی کہا جاتا ہے۔
گزشتہ 20 برسوں سے وہ تتلیوں اور کیٹرپلرز کے تحفظ کے ذریعے فطرت اور انسان کے درمیان ٹوٹے ہوئے رشتے کو بحال کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں: مونارک تتلیاں معدومیت کے دہانے پر، امریکا نے اہم قدم اٹھالیا
بچپن کا شوق جو مشن بن گیاشرین عبداللہ کو فطرت سے لگاؤ ورثے میں ملا ہے۔ ان کے بقول ان کے والد نے بچپن میں ہی انہیں قدرت کے قریب رکھا اور زندگی کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کرایا۔ جب وہ خود ماں بنیں اور اپنے بیٹے کو وہی تجربہ دلانا چاہا، تو انہیں معلوم ہوا کہ مقامی نرسریوں میں پودوں پر موجود کیٹرپلرز کو زہریلی ادویات کے ذریعے مار دیا جاتا ہے ۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے انہیں ان معصوم جانداروں کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔
ریسکیو آپریشن سے تعلیمی پروگرام تکشرین نے اپنی جدوجہد کا آغاز نرسریوں سے کیٹرپلرز کو بچانے (Rescue) اور انہیں محفوظ طریقے سے پال کر دوبارہ ماحول میں چھوڑنے سے کیا۔
2007 میں انہوں نے پہلا آگاہی سیشن اسکول کے بچوں کے لیے منعقد کیا۔
2012: ‘بٹر فلائی کلب’ پروگرام متعارف کرایا تاکہ اسکولوں میں اس مشن کو مستقل بنیادوں پر چلایا جا سکے۔
2016: ‘بٹر فلائی ایفیکٹ’ پروگرام کا آغاز کیا، جو اب کراچی کے سی ایم ایس اسکول (سرکاری اسکول)، اسلام آباد کے آئی ایس جی اور نارووال پبلک اسکول میں کامیابی سے چل رہا ہے۔
ان اسکولوں میں باقاعدہ کنزرویٹریز، چلڈرن کلب اور ‘ٹرین دی ٹرینر’ پروگرامز کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کو تربیت دی جا رہی ہے۔
تتلیوں کی آبادی کو درپیش عالمی خطراتشرین عبداللہ کے مطابق تتلیوں کی کمی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے، ان کے بقول افزائشِ نسل میں تین بڑی رکاوٹیں ہیں:
کلائمٹ کرائسز: تیزی سے بدلتا ہوا موسم۔
اربنائزیشن: درختوں کا کٹاؤ اور بڑھتی ہوئی تعمیرات۔
کیڑے مار ادویات: پودوں پر اسپرے کا بے جا استعمال۔
اس کے علاوہ مصنوعی روشنیوں کی آلودگی بھی ان نازک جانداروں کی آبادی کو متاثر کررہی ہے۔
سماجی رکاوٹیں اور غلط فہمیاںاپنے سفر کے دوران شرین کو کئی عجیب و غریب سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ کیٹرپلرز کو ریسکیو کر رہی ہوتی تھیں، تو لوگ سمجھتے تھے کہ شاید وہ ان سے کوئی ‘یونانی دوا’ تیار کریں گی یا یہ ان کا کوئی کاروبار ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ شعور بیدار ہوا اور اب یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی ان کے ساتھ اس کام میں شریک ہیں۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟شرین عبداللہ کا پیغام بہت سادہ ہے کہ اگر آپ آب و ہوا کا بحران اکیلے تبدیل نہیں کر سکتے، تو کم از کم اپنے پودوں پر اسپرے نہ کریں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ:
اگر پودے پر 10 کیٹرپلرز ہوں تو کم از کم 4 کو بچا کر ان کی پرورش کریں۔
گھر میں ایک ‘سیکریفائس پودا’ (Sacrifice Plant) الگ رکھیں جہاں کیٹرپلرز کو مارا نہ جائے۔
لیموں اور کری پتے کے پودے لگائیں، کیونکہ یہ بہت سی تتلیوں (جیسے لائم اور سوالو ٹیل) کے پسندیدہ میزبان پودے ہیں۔ ایک ننھی جان کو بچانا پورے نظام کی بقا ہے۔
مزید پڑھیں: تتلیوں کا شوقین معمر شخص جس کے کلیکشن پر جوان بھی رشک کریں
ان کے مطابق ایک تتلی سینکڑوں انڈے دیتی ہے، لیکن ان میں سے صرف 4 فیصد ہی اپنی زندگی کا چکر مکمل کر پاتے ہیں۔ باقی انڈے اور کیٹرپلرز دیگر مخلوقات کے لیے خوراک بنتے ہیں۔ شرین کا کہنا ہے کہ جب ہم ایک کیٹرپلر کو بچاتے ہیں، تو ہم صرف ایک جاندار کو نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
شرین عبداللہ کی یہ مہم آج بھی بغیر کسی سرکاری فنڈنگ کے، صرف نجی عطیات اور پرانے طالب علموں کے تعاون سے جاری ہے۔ ان کا جذبہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلی تتلی کو آزاد کرتے وقت تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بٹر فلائی لیڈی تتلیوں کی حفاظت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شرین عبداللہ بٹر فلائی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔