میکسیکو، فوجی آپریشن میں بدنام زمانہ کارٹیل سربراہ ہلاک، ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میکسیکو کی وزارتِ دفاع کے مطابق مغربی ریاست جالسکو میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران بدنامِ زمانہ کارٹیل کا سربراہ نیمیسیو اوسیگوئرا المعروف ایل مینچو زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق اسے دارالحکومت میکسیکو سٹی منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایل مینچو طاقتور جرائم پیشہ گروہ جیلسکو نیو جنریشن کارٹل کا سربراہ تھا، جس نے کم عرصے میں عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ کا وسیع نیٹ ورک قائم کر لیا تھا۔ اس گروہ کا مقابلہ حریف تنظیم سینالوا کارٹل سے تھا، جس کی قیادت ماضی میں گرفتار منشیات فروش جواکین ایل چیپو گزمان کر چکا ہے۔
کارروائی کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ کئی ریاستوں میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور مسلح افراد نے اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ جالسکو کے گورنر پابلو لیموس ناورو نے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی احتیاطی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔