اسلام آباد میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر فیض آباد کے ٹرانسپورٹ اڈے بند
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر فیض آباد کے ٹرانسپورٹ اڈے بند کر دئیے گئے ۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے کیا گیا، جس کے باعث بین الصوبائی اور اندرونِ شہر ٹرانسپورٹ سروس مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔بس اڈوں کی اچانک بندش کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے، ٹرانسپورٹرز نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مالی نقصان کا شکوہ کیا ہے اور انتظامیہ سے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔بس اڈوں کی بندش کے معاملے پر وفاقی پولیس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈے محض سیکیورٹی خدشات پر بند نہیں کیے گئے بلکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو رہی ہے۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ بس اڈے جو پولیس کے سافٹ ویئر پر مسافروں کا اندراج نہیں کر رہے یا واک تھرو گیٹس نہیں لگا رہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔