پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خانم کے انٹرویو پر سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
واٹس ایپ گروپ میںایسے بیانات دیکھ رہے ہیں جن کا سبب صدمہ، بڑھاپا اور شدید ذہنی دباؤ ہے
ان خواتین کو اس عمرمیں گھر پر پوتے پوتیوں کے ساتھ ہوناچاہیے،رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے انٹرویو پر تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات شدت پکڑتے جارہے ہیں، حال ہی میں علیمہ خان نے ایک انٹرویو دیا جس پر ایم این اے شاندانہ گلزار نے پارلیمانی پارٹی واٹس ایپ گروپ میں اپنا سخت ردعمل دیا۔شاندانہ گلزارنے واٹس ایپ گروپ میں بغیر نام لیے کہا کہ ایسے بیانات دیکھ رہے ہیں جن کا سبب صدمہ، بڑھاپا اور شدید ذہنی دباؤ ہے۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ان خواتین کو اس عمرمیں گھر پر پوتے پوتیوں کے ساتھ ہوناچاہیے، پارٹی کو 8 فروری پرتوجہ دینے کاکہاگیا اور اسی دن ان کی بسنت کی ویڈیو موجود ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر نے سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورکے خلاف کارروائی سے متعلق باتوں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ان کے خلاف کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سے گزارش کی ہے کہ پارٹی اندرونی اختلافات کی متحمل نہیں ہو سکتی، علی امین گنڈاپور نے ویڈیو بیان میں معذرت کرکے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، ہماری ترجیح صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔