ایسی بالی وڈ اداکارہ جس کا شوبز کیریئر ایک ’نازیبا ویڈیو‘ نے تباہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ریا سین، جنہوں نے اپنی خوبصورتی اور اداکاری سے مداحوں کے دل جیتے، ایک ویڈیو اسکینڈل کے بعد فلم انڈسٹری سے دور ہو گئیں۔
ریا سین نے کم عمری میں اپنی اداکاری کا آغاز کیا اور بالی وڈ کے ساتھ بنگالی، تیلگو اور تامل فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تاہم، 2005 میں ایک مبینہ ایم ایم ایس اسکینڈل نے ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچایا۔
یہ ویڈیو، جس میں ان کا نام اداکار اشمیت پٹیل کے ساتھ جوڑا گیا، انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔
ریا کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے بارے میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ مشہور ہونے کے لیے اس ویڈیو کے پیچھے خود تھیں۔
اس اسکینڈل کے باوجود، ریا سین نے اپنی ذہنی صحت کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنی دلکش تصاویر سے دوبارہ مداحوں کی توجہ حاصل کی۔
آج ریا، جو 40 سال کی ہو چکی ہیں، اپنی خوبصورتی اور جوان نظر آنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔
ریا کا نام بالی وڈ کے کئی مشہور شخصیات کے ساتھ جوڑا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ان کے تعلقات اداکار اکشے کھنہ، متنازع مصنف سلمان رشدی، اور سابق کرکٹر سری سانتھ کے ساتھ رہے۔ تاہم، اشمیت پٹیل کے ساتھ تعلق اور اس سے جڑے ایم ایم ایس اسکینڈل نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے ساتھ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔