بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ریا سین، جنہوں نے اپنی خوبصورتی اور اداکاری سے مداحوں کے دل جیتے، ایک ویڈیو اسکینڈل کے بعد فلم انڈسٹری سے دور ہو گئیں۔

ریا سین نے کم عمری میں اپنی اداکاری کا آغاز کیا اور بالی وڈ کے ساتھ بنگالی، تیلگو اور تامل فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تاہم، 2005 میں ایک مبینہ ایم ایم ایس اسکینڈل نے ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچایا۔ 

یہ ویڈیو، جس میں ان کا نام اداکار اشمیت پٹیل کے ساتھ جوڑا گیا، انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔

ریا کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور ان کے بارے میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ مشہور ہونے کے لیے اس ویڈیو کے پیچھے خود تھیں۔

اس اسکینڈل کے باوجود، ریا سین نے اپنی ذہنی صحت کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنی دلکش تصاویر سے دوبارہ مداحوں کی توجہ حاصل کی۔

آج ریا، جو 40 سال کی ہو چکی ہیں، اپنی خوبصورتی اور جوان نظر آنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔

ریا کا نام بالی وڈ کے کئی مشہور شخصیات کے ساتھ جوڑا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ان کے تعلقات اداکار اکشے کھنہ، متنازع مصنف سلمان رشدی، اور سابق کرکٹر سری سانتھ کے ساتھ رہے۔ تاہم، اشمیت پٹیل کے ساتھ تعلق اور اس سے جڑے ایم ایم ایس اسکینڈل نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے ساتھ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟